دنیا کی آرزوہےنہ نمود کی طلب ہے
مجھے خواہشوں نے گھیرامجھےلذتوں نےمارا
مرا خوف گنہگاری، مرا چین آہ و زاری
مراغم تری رضا ہے، یہی غم مری خوشی ہے
جاں سے گزر کے ہوگی تری دید تک رسائی
کچھ اہل دید ہیں جو دیدار کر رہے ہیں
ہوں حشر کا مسافر اور زادِ رہ نہیں ہے
درِ مصطفیٰ پہ جا کر میں نے عزیز دیکھا
— Sheikh Abdul Aziz Dabbagh\
