تمھارے قدموں تلے بسیرا ہو یا مُحمّدؐتمھاری پر چھائیوں سے مَیں بھی لپٹ کے دیکھوں
طلوع مُجھ سے بھی اِک سویرا ہو یا مُحمّدؐتمھاری آواز جذب کر لوں سماعتوں میں
تمھاری خوشبو مِرا پھریرا ہو یا مُحمّؐدزمانہ ہوش سے یہ آنکھیں بھی منتظر ہیں
کبھی تمھارا ادھر بھی پھیرا ہو یا مُحمّؐدنہ ہو مِرے نامہء عمل پر کوئی سیاہی
نہ میرے اندر کبھی اندھیرا ہو یا مُحمّؐدوہ توڑ ڈالے نہ کیوں حصارِ وجود اپنا
تمھاری بانّہوں نے جس کو گھیرا ہو یا مُحمّؐدخُدا کرے حشر تک مُظفؔر کی قبر میں بھی
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
