چودھویں کا چاند ہے رُوئے حبیب
جان کو قرباں کروں مثل چکور
عرض کرنا بے کلی میری صبا
زاہدو ہے فکر تم کو خلد کی
جو فنا ہیں عشقِ مولیٰ میں اُنہیں
وہ مَدینے سے اُٹھی کالی گھٹا
بار بار آتے تھے جبریل امیں
عشق میں پاسِ شریعت ہو ضرور
دشمنوں کو ظلم کے بدلے دُعا
اس کو شیروں پر شرف حاصل ہوا
ڈھونڈتے ہیں سب رضا مندیِ حق
سب نظر رکھتے ہیں خالق کی طرف
حضرتِ خالد کا ہے یہ تجرِبہ
اپنے اُوپر بار عالم کا لیا
اے جمیلؔ قادری ہشیار ہو
— Jamil Ur Rehman Qadri\
