حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
تری کفشِ پا یوں سنوارا کروں میں
تری رحمتیں عام ہیں پھر بھی پیارے
مجھے اپنی رحمت سے تو اپنا کرلے
میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں
سلاسل مصائب کے اَبرو سے کاٹو
خدارا اب آؤ کہ دَم ہے لبوں پر
ترے نام پر سر کو قربان کرکے
یہ اِک جان کیا ہے اگر ہوں کروروں
مجھے ہاتھ آئے اگر تاجِ شاہی
ترا ذکر لب پر خدا دِل کے اندر
دمِ واپسیں تک ترے گیت گاؤں
ترے دَر کے ہوتے کہاں جاؤں پیارے
مرا دِین و اِیماں فرشتے جو پوچھیں
خدا ایسی قوت دے میرے قلم میں
جو ہو قلب سونا تو یہ ہے سہاگا
خدا ایک پر ہو تو اِک پر محمد
خدا خیر سے لائے وہ دِن بھی نوریؔ
صبا ہی سے نوریؔ سلام اپنا کہہ دے
— Mustafa Raza Khan Noori\
