حاجیوں کے بن رہے ہیں قافِلے پھر یانبی
کررہے ہیں جانے والے حج کی اب تیّاریاں
آہ! پلّے زَر نہیں رَخْتِ سفر سَروَر نہیں
کِس قَدَر تھا خوش مجھے جب پیش آیا تھا سفر
دِل مِرا غمگین ہے اور جَان بھی ہے مُضْطَرِب
غم کے بادَل چَھارہے ہیں آہ! میرے قَلب پر
گُنبدِ خَضرا کے جَلْوے دیکھنے کب آؤں گا
آپ ہی اسباب آقا پِھر مُہَیّا کیجئے
کِس طرح تَسکین دُوں گا میں دِلِ غمگین کو
مُجھ پہ کیا گُزرے گی آقا! اِس برس گَر رَہ گیا
آہ! طیبہ سے اگر میں دُور رہ کر مَر گیا
مِثلِ سَابِق اِس بَرس بھی کیجئے نَظرِ کرم
جو مدینے کیلئے رہتے ہیں آقا بے قَرار
چاک سینہ چاک دِل سَوزِ جِگر اَور چَشمِ تَر
بِالْیَقِیں قُرآن عَظمَت پر تمہاری ہے گواہ
تُم کو عِلْمِ غَیب مولا نے عطا فرما دیا
اِستِقَامت دِین پر مجھ کو عطا فرمایئے
آپ سب نَبیوں میں اَفضل اور میں بَدکار آہ
عَاصِی و بَدکار کے اپنے خدائے پاک سے
بال بھی بِیکا نہ میرا تو کوئی کر پائے گا
تِشنَگانِ دِید کو ہو دِید کا شَربَت عطا
آہ! میرا کیا بنے گا گَر نہ حج پر جاسکا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
