حیات سے بڑا ہے کائنات سے بڑا ہے وہ
زبان ساتھ دے مگر شعور کی حدود تک
خدا کا اور بندہء خدا کا کیا مقابلہ
قریب سے قریب تر بعید سے بعید تر
ہم اسکی جس قدر ثنا کریں ہے کم بہت ہی کم
کسی کی فکر و فہم کی گرفت میں نہ آسکے
— Muzaffar Warsi\
Hamd o Sana lyrics praising Allah Almighty
حیات سے بڑا ہے کائنات سے بڑا ہے وہ
زبان ساتھ دے مگر شعور کی حدود تک
خدا کا اور بندہء خدا کا کیا مقابلہ
قریب سے قریب تر بعید سے بعید تر
ہم اسکی جس قدر ثنا کریں ہے کم بہت ہی کم
کسی کی فکر و فہم کی گرفت میں نہ آسکے
— Muzaffar Warsi\
میری محبت میرا حوالہ رب ہے رب
مایوسوں محروموں گرتے پڑتوں کا
انجاموں سے بھی آگے اس کا آغاز
احساس و جذبات کا رابطہ رکھ اس سے
سبحان ربی العظیم ہے اس کی ذات
میری روح میں دل میں ذہن میں آنکھوں میں
جتنی تعریفیں کی جائیں کم ہیں کم
پہنوں اوڑھوں اسے مظفر صرف اُسے
— Muzaffar Warsi\
اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
یہ زمیں جب نہ تھی آسماں جب نہ تھا
پہنچے معراج پر سرورِ انبیاء
سارے عالم میں قبضہ ہے قدرت تیرا
تائرانے جنا میں تیری گفتگو
— Unknown
یہ زمیں یہ فلک
ہر سحر پھُوٹتی ہے نئے رنگ سے
ہر ستارے میں آباد ہے اِک جہاں
نُور ہی نُور بِکھرا ہے کالک نہیں
سو نپ کر منصبِ آدمیّت مُجھے
— Muzaffar Warsi\
زمیں کے لوگ ہوں یا اہلِ عالمِ بالا
تِرے قلم کی گواہی ، مرقّعِ عَالَم
دِیے حسین خدو خال تُو نے مٹّی کو
تھمائی مہر کو لَیل و نہار کی ڈوری
زمینِ تِیرہ کے مُنہ سے لگا دِیا تُو نے
پڑھے قصیدہ وحدت ، ہجومِ کون و مکاں
مُجھے ہی تُونے دیا اِختیارِ لغزش بھی
اُتار کر مِرے سِینے میں آگہی کے چانّد
ہر ایک سانّس کو میری ، بنا چراغِ حرم
— Muzaffar Warsi\
شب کو مہتاب نِکالا ہے
دُنیا ئے رنگین کی دُلہن
مہکار جُدا آواز جُدا
قبضہ ہے جس کی چُٹکی کا
— Muzaffar Warsi\
مرے لئے مرے اللہ دو حرم ہیں بہت
تو سامنے سہی تجھ تک رسائی سہل نہیں
خطا معاف میں دو وحدتوں کا قائل ہوں
کدھر کدھر تری آواز کی طرف جاؤں
رہ سلوک میں یہ کونسا مقام آیا
نیاز مند مظفر کو بھی بنا اُن کا
— Muzaffar Warsi\
نہیں ہے کوئی بھی اللہ کے سوا موجود
نہ اونگھتا ہے نہ کچھ نیند اس کو آتی ہے
وہ کون ہے جو کرے بارگاہ میں اُسکی
ہر ایک لمحہ جو پیش آرہا ہے لوگوں کو
احاطہ علم کا اس کے کسی کے بس کا نہیں
اور اُسی کرسی کہ ارض و سما پہ حاوی ہے
— Muzaffar Warsi\
نگاہ دنیا لگے گی دنیا حرم لگے گی
رکھیں گے اپنی جبیں جو سجدے میں اس کے آگے
مٹاؤ گے بھوک کس طرح زندگی کی آخر
کریں گے ہر حال میں جو شکر اس کا اس کے بندے
قصیدہ حمدیہ میں اس شان سے لکھوں گا
جو اُس کی خوشنودیوں کو پیش نظر نہ رکھّا
کریں گے انکار ہم اگر یوم آخرت کا
عمل کے سکّے اگر وہاں چل گئے مظفر
— Muzaffar Warsi\
حیات سے بڑا ہے کائنات سے بڑا ہے وہ
زبان ساتھ دے مگر شعور کی حدود تک
خدا کا اور بندہء خدا کا کیا مقابلہ
قریب سے قریب تر بعید سے بعید تر
ہم اسکی جس قدر ثنا کریں ہے کم بہت ہی کم
کسی کی فکر و فہم کی گرفت میں نہ آسکے
— Muzaffar Warsi\