اللہ ہو دم بدم اللہ ہو
ہر کلی ہر ثمر لہلہاتے شجر
عظمتوں رفعتوں کے نشاں تیرے ہیں
اس کی قسرت کرن در کرن در کرن
— Unknown
Hamd o Sana lyrics praising Allah Almighty
اللہ ہو دم بدم اللہ ہو
ہر کلی ہر ثمر لہلہاتے شجر
عظمتوں رفعتوں کے نشاں تیرے ہیں
اس کی قسرت کرن در کرن در کرن
— Unknown
تجھ سے کیا مخفی مرے پروردگار
نذر کرنے کے لۓ تیرے حضور
ہے خس و خاشاک کا انبار یہ
میرے قحط فکر کا تجھ کو ہے علم ؟
جو غزل سے بچ رہی تھی اہلیت
صورتِ غربال یہ چھلنی حروف
ہے عیاں آشفتگی مفہوم کی
تیری مدحت کے لۓ تیرہ جبیں
ہو رہِ اظہار میں یہ سرخرو
بخش مجھ بے برگ کرتُو غیب سے
خاک سے ہوکیا تری حمد و ثنا
ہے قلم چُپ حسرتِ اظہار سے
عمر ہے بےرنگ بے بنیاد عکس
زندگی کے منتشر انجام پر
کچھ سمجھ آتا نہیں مجھ گنگ کو
جاں خطاؤں پرہی جس کی اساس
سوچ ہے مفلوج ہیں ماؤف لفظ
کون قطرے ذرے تارے گِن سکے
ایک گلدستے میں سمٹے کس طرح
شمع تشویق و چراغ حب کے گرد
اس وفور جذب کے اظہار کی
مضمحل اعصاب کی شوریدگی
تیری لحظہ لحظہ بڑھتی شان سے
میں ہمہ خس طبع تیری ذات پاک
کھرب ہا پہلو ترے، اے حُسن کل!
معنی و مطلب تری ہر شان کے
ربنا ! مقبول ہو بین السطور
حرف کوئی بھی ترے شایانِ شاں
یہ مری سعیِ شکستہ ہو قبول
تُو نگہباں جیسے دنیا میں رہا
تجھ سے یہ عاصی ہے دل سے عفوخواہ
ایک ہی خواہش ہے اے بارالہ!
ذہن ، ترتیب توازن یاب ہو
تیرے در پرعفو کا طالب ہوں میں
حمد کے آداب سے نا آشنا
مصرع تراک بھی کب لکھا گیا؟
بھربھی مٹی سے یہ بے صرفہ لفظ
خاسر و خائن یونہی بیکار میں
جانتا ہوں میں ترے قابل نہیں
عفو کا رستہ کوئی راہ نجات
حبسِ دل میں بادِ بخشش کی چلے
زنگ اتر جاۓ ریا و مکر کا
پا رہا ہوں بارکس دربار میں
صدقۃ حضرت محمد مصطفیٰ
غایت کُن ' حاصل امکان و ہست
اسے خوشا! تکرار اس کے نام کی
نام ہے کیسا تسلسل آفریں
ذکر ہے گردان آمادہ یہی
جیبھ تھکتی ہی نہیں اس نام سے
طالب اس کی دید کا ہر دیدہور
جسؐ کا نام آتے مہک اٹھے ورق
گفتگو کیا کم ہو اسؐ کی شان کی
اس کی ذات اس کی رسالت اس کے وصف
اس کی ختم المرسلینی کو دوام
آپؐ کے اصحاب تاروں کی مثال
بڑھ کے وہ ماں باپ سے اولاد سے
منفرد فدویت و ایثار میں
تھام اپنے لطف کی آغوش میں
فنہ و شر میں نظر آۓ مجھے
حیف بڑھتی زندگی کے ساتھ ساتھ
وحشتِ شوریدگی پاۓ سکوں
عافیت اسلوب' خیر انجام ہو
روز و شب ہوں خیر خواہ خیر مند
اس جہاں میں تو ذرا ممکن نہیں
کیا ترے شایان شاں اک مدح بھی
ہے دعا یہ ہی یہی ہے التجا
اپنے دامانِ محبت میں سمیٹ
ہوں توازن یاب واماندہ حسیں
آ گیا ہے جو خلل اعصاب میں
انتشار افکار کا ہو راست رو
دہر ہو برزخ ہو عقبیٰ ہو فقط
اولین و آخریں امید تُو
ایک دو پل کے سہارے دوسرے
خوش گماں ہیں تیری رحمت پر بہت
تو نے آسودہ مجھے دکھا سدا
ہو دعاۓ رفتگاں ہمرہ مرے
ہو ازالہ اربوں جرموں کا مرے
تیری رحمت سے ہوں آساں منزل
ہو نہ دل مصلوب اس آشوب میں
ربنا سبحان ربی العظیم
عرصۃ محشر میں آسودہ رہے
حرف بخشش کی ملے مجھ کو نوید
صف بہ صف اس کی خطائیں ہیں کرم
بےکراں فہرست اس کے جرم
خوبیاں گر ایک دو ہوں بھی تو وہ
واۓ نادانی! ہمیشہ ہی رہی
تیری طاعت میں نہیں گزری حیات
داغ سھبے دور ہوں شاہا کرم!
تیرے دیں پر ہو تصدیق زندگی
پاؤں تیری بندگی میں سر خوشی
پھول بن جائیں ترے اکرام سے
بےبسی کی چُپ نہ جاۓ رئیگاں
زندگی بھر تو نے رکھا کامراں
رحم ! اے بینندۃ مافی الصدّور
تیری رحمت سے ہو اطمینان بخش
ہو مری شرمندہ چُپ' حمد آشنا
تو اگر چاہے تو یہ دیوانِ حمد
اختتام اس مصرع پر ہو حمد کا
— Unknown
میرے لحن و لہجہ میں جو ہر و خبر میں آ
تیرے نام کی برکت سے کروں سفر آغاز
حیرتی زمینوں کا رازیاب کر مجھ کو
خلوتِ تہجد کی خامشی ! سہارا بن
یادِ حق تعالیٰ! ہر کلفت و اذیت میں
صبح فتح کی تمثال روح میں اجالا کر
کوئی ایک پل ایسا جو امر ہو مل جاۓ
اذنِ رب سے تاثیر و شادمانی درواں
رب آیۃ اقراء کی مدیح کا ہے قصد
— Riaz Majeed\
آیا ہے میرے دل میں جو ارمان حمد کا
تیرے کرم سے شعر کے پیراۓ میں ڈھلے
خوشبو ہے دھڑکنوں میں ترے اسم پاک کی
تاثیر کے چراغ جلاۓ کلام میں
تسبیح کے میں جملہ مراتب سمجھ سکوں
مصروف ہر گھڑی رہے اورادِ شکر میں
الحمد' ابتدا ہےتو والناس' اختتام
الفاظ کے قرینے سے چُپ کے سلیقے سے
تحریر ہر گھڑی کرے اس کی ثناۓ خاص
— Riaz Majeed\
دنیا میں کوئی بھی نہیں تیرے سوا، میرے خدا !
تو نے جو بھیجا ہے نبیؐ نبیوں میں ہے وہ آخری
دل میں یہی گردان ہو' یا رب ھو یا رحمٰن' ہو
کرمک کوئی پتھر میں ہو، ذی روح بحر وبر میں ہو
سیّارگاں کے دائرے ' یہ کہکشاؤں کے کرے
باتیں تری حکومت بھری، فرمان تیرے روشنی
پانی کا قطرہ ہو کوئی، مٹی کا ذرہ ہو کوئی
اے چارۃ بے چارگاں! اے دستگیر بے کساں!
جو خلق کا معتوب ہو' مغضوب ہو' اس پر بھی تُو
عاصی ترا' مجرم ترا' ریاضؔ پر خطا
— Riaz Majeed\
داغ جب تک نہیں عصیاں کا دِلا! دھو ہوتا
وقت مل جاتا تری حمد کو گر خاطر خواہ
کیسے ترتیب میں ڈھلتے چلے جاتے الفاظ
لب ہر قطرہ پہ کیوں ہوتی نہ تیری تمجید!
دل یہ کرتا ہے،زیادہ سے زیادہ جاگیں
حیف صد حیف' افسوس' ہزاراں افسوس
حرم پاک سے رخصت کی گھڑی آئی ریاضؔ
— Riaz Majeed\
معصیت اور گناہوں سے بچاۓ رکھنا
مجھ خطاکار کی درماندگی حشر میں بھی
سفرِ آخرت آساں ہو مرا جن سے' مرے
ساری عزت ہے اسی در کی زمیں بوسی میں
ربّا رحم وہی اس کے کرم کے بارے
رحمت ایزوی اُترے گی ثنا کی صورت
اس کے احکام ہیں ہر پہلو سے حرفِ آخر
اس کی ہشتی کے حضور اپنا عقیدت سے ریاضؔ
— Riaz Majeed\
میری یا رب ! محافظت فرما
چاہۓ حمد میں گداز اگر
کر ہوا سے صلاح اے دل ! تو
کوئی آتا نہیں مدد کو اگر
ربّ ارحم سے التجا ہے' معاف
کر کرم اپنا' پہلے سے مضبوط
یہ سب آپس میں لڑتے رہتے ہیں
لفظ و معنی میں بڑھ گئی ہے خلیج
نادم آیا ہے تیرے در پہ ریاضؔ
— Riaz Majeed\
میرے اللہ مغفرت فرما
خیر آمادہ ہو یہ خیر گریز
میری بخشش کا اک ذریعہ بنے
جی نہ پاؤں میں بندگی کے بغیر
اک لمحہ نہ گزرے خیر بغیر
بِن ترے ذکر کے نہ پاۓ سکون
میرے اللہ جیسی بھی ہے' قبول
نہیں رکھتے گو اس کا استحقاق
ہوں گنہ گار' کر کرم مجھ کو
رحمت رب! ریاض عاصی کے
— Riaz Majeed\
اخلاص اثر یہ بادہ فرما
اے سب پہ بہت رحیم! مجھ پر
مجھ کم دل و کم نگاہ کی قبر
ہر منزلِ خواہش و طلب میں
ہم ذہن کر میری ہر جبلّت
زنجیر کر اپنی بندگی میں
جو پاک تھا شور و شر سے' میری
کر نقش ریاضؔ دل میں وہ دور
— Riaz Majeed\