بے نشاں کو ثنا نشان کیا
دل میں جو کچھ تھا' اے رحیم و کریم
رب معنی! ترا کرم تُو نے
کیا میرا سکوت' عرض انداز
دکھ کو دی سکھ شکل میرے لۓ
حمد اور نعت کے وسیلے سے
مجھ کو اپنے کرم کے بارے میں
رحم مادر سے بابِ جنت تک
پاس پایا ریاضؔ نے تجھ کو
— Riaz Majeed\
Hamd o Sana lyrics praising Allah Almighty
بے نشاں کو ثنا نشان کیا
دل میں جو کچھ تھا' اے رحیم و کریم
رب معنی! ترا کرم تُو نے
کیا میرا سکوت' عرض انداز
دکھ کو دی سکھ شکل میرے لۓ
حمد اور نعت کے وسیلے سے
مجھ کو اپنے کرم کے بارے میں
رحم مادر سے بابِ جنت تک
پاس پایا ریاضؔ نے تجھ کو
— Riaz Majeed\
درد دل کر مجهے عطا یا رب
لاج رکه لے گناہگاروں کی
عیب میرے نہ کهول محشر میں
بے سبب بخش دے نہ پوچه عمل
زخم گہرا سا تیغ الفت کا
یوں گموں میں کہ تجه سے مل جاوں
بهول کر بهی نہ آئے یاد اپنی
تو حسن کو اٹها حسن کر کے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
ہوں اوج بخت کہکشاں در کہکشاں نصیب
بے کار مشغلوں میں نہ سانسوں کا زر گنوا
پیدا وہ مردہ مٹی سے کرتا ہے زندگی
مول اس کا کیا حدائق بخشش کی سیع سے
در بےشمار کھل گۓ اظہار حمد کے
صالح قیادتیں ملیں' امت کو یا خدا
اک نظم میں در آۓ' یہ اک ضبط میں ڈھلے
— Riaz Majeed\
ہے مدینے کی رہگزر کی طلب
میری درماندگی کو حشر میں ہے
بھول جاؤں نہ حرص دنیا میں
ایک مدحت کروں مکمل جب
شانِ شایاں جو تری حمد کے ہوں
جہاں مقبول حمد گو ہوں مقیم
رائیگاں سعئ فن نہ جاۓ رہے
نہ ڈراۓ سیاہ قبر کی رات
خواہش اخلاص کی ہے لکھنے میں
— Riaz Majeed\
ہر کسی عافیت طلب کی جبیھ
تیری مدحت میں سدا مشغول
اُس کی تمجید رہے ہر ایک
کرے ہر آن اس کے اسم کا ورد
جبیھ والوں کو بھی نہیں معلوم
کیا بیاں اس کی قدرتوں کا کرے
اے خدا ہے تری ہی مدحت خواں
بولنا آیا اس کے بارے جب
ملتزم سے لگی ہے جب سے ریاضؔ
— Riaz Majeed\
کچھ ایسا کر کریم! مرے ساتھ اپنے آپ
ہر چیز اپنی سیدھی ڈگر پر ہو گامزن
ہو دور جو کجی ہے جبلت میں اے رحیم!
ہو غیب سے اشارہ کوئی معجزے کی شکل
ہٹ کراس ارض پاک سے آۓ نہ کوئی سوچ
فیضان روح پر ترے الطاف کا رہے
اظہار کو نصیب ہو لہجہ دعاؤں کا
تیرے کرم سے فردِ عمل میں ریاضؔ کی
— Riaz Majeed\
گر قبلہ رو' قرینہ؛ افعال ہو درست
ترے کرم سے خیر سلیقہ ہو زندگی
شائستگی نصیب ہوں خواہش کے زیر و بم
پیچھے لگے نہ نفسِ خطاکار کے یہ دل
گزرا جو وقت اس میں ہوئی جو خطا معاف
محشر میں پیشِ خلق نہ رسوائی ہو مری
لاریب' ہمہ نفع ہے یہ کاروبار عمر
حیرت ہے ایک اول و آخر محیط لب
ہو خیریاب زندگی تب ہی اگر ریاضؔ
— Riaz Majeed\
ایہہ کلمہ ذکر اِلہٰی دا
اس کلمے دے راز نیارے نیں
اس کلمے دے لفظ نیں چارمیاں
کر کلمے وَل دھیان میاں
کیوں کرنا ایں مان جوانی دا
کیوں کرنا ایں عمر ویران میاں
ایہہ دنیا دے جھگڑے چھوڑ میاں
بِن تیل توں دیوا بَلدا نئیں
— Muhammad Binyamin Shakir Attari\
ہم دست رہیں زیست کے اسباب سلامت
اوجھل نہ نگاہوں سے رہے منزل مقصود
کوشاں رہوں افزودگی اصلِ ثنا میں
روشن حرم شہہؐ کے رہیں گنبد و مینار
دھندلائیں نہ میرے سخن' آشوبِ زماں سے
معنی نہ دیۓ جائیں انہیں اور طرح کے
آنکھوں میں رہیں شیفتگی آل کے انوار
بنیاد میں اس کی مرے پرکھوں کا لہو ہے
تشویشِ' کرونا میں ریاضؔ ایک دعا ہے
— Riaz Majeed\
اللہ دا نام لیۓ
ہر شے دا خالق اللہ
مشکل نوں اوہ ٹالن والا
نبیاں دا ناصر اللہ
رب دے پیارے اُتے
دامن وَلیاں دا پھڑیۓ
آکھاں امینؔ آکھاں
اللہ دا نام لیۓ مولا دا نام لیۓ
— Unknown