ہو عطا اپنا غم، تاجدارِحرم
کیجئے شاد کام، اپنا کہہ کے غلام
مال بھی آل بھی،بال بھی کھال بھی
تیراکھاتے ہیں ہم،تیراپیتے ہیں ہم
ایسا کر دو سبب، بس اُتر جائے اب
یہ چمک یہ دمک، یہ مَہک یہ لہک
جو بھی مانگا مِلا، مرحبا مرحبا
گھر سجاتے رہیں اور مناتے رہیں
عیدِ میلاد میں ، گاڑیں گے یاد میں
گُنگناتے رہیں گیت گاتے رہیں
تیرے دیوانے سب،آئیں سُوئے عَرَب
سینہ جلتا رہے، دِل مچلتا رہے
یارسولِ خُدا، سروَرِ انبیا
غم کی کالی گھٹا، کو شہا دو ہٹا
مِہرو ماہِ مُبیں ، ہے یہ عرضِ حَزیں
یانبی المدد، اے رسول المدد
جلوۂ یار ہو، قبرِ عطارؔ ہو
— Unknown
