نام لیوا ترا کوچہ سے ترے شاد آیا
لے گیا دِل کی مرادوں سے وہ بھر کر دامن
ترے روضے کو نہ کیوں قبلۂ حاجات کہوں
نام نے تیرے ہر اِک غم سے بچایا ہم کو
جب غلاموں نے مصیبت میں تجھے یاد کیا
تجھ پہ قربان میں اے آئینۂ ذاتِ خدا
کب وہ دن ہوگا الٰہی کہ یہ اَحباب کہیں
— Unknown
