حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
تجلیات سے بھر لوں میں اپنا کاسۂ جاں
حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
ملے مجھے بھی زبانِ بوصیری و جامی
مزا تو جب ہے فرشتے یہ میں کہہ دیں
— Sabeeh Rehmani\
