ذرّے جھڑ کر تری پیزاروں کے
ہم سے چوروں پہ جو فرمائیں کرم
میرے آقا کا وہ در ہے جس پر
میرے عیسیٰ تِرے صدقے جاؤں
مجرمو ! چشمِ تبسم رکھو
تیرے اَبرو کے تَصَدُّق پیارے
جان و دل تیرے قدم پر وارے
صِدق و عَدل و کرم و ہمّت میں
بہرِ تَسلیمِ علی میداں میں
کیسے آقاؤں کا بندہ ہوں رضاؔ
— Unknown
