اِک بار پھر کرم شہِ خیرُالانام ہو
پھر جھومتا ہُوا میں چلوں جانبِ حِجاز
پیشِ نظر ہو گنبدِ خَضرا کی پھر بہار
ہو آنا جانا میرا مدینے میں عمر بھر
یوں مجھ کو موت آئے تمہارے دِیار میں
یارب بچا لے تُومجھے نارِ جَحیم سے
دیوانے رو رہے ہیں مدینے کے واسطے
دل کی مُراد پاگیا جو در پہ آگیا
دشمن کا زَور بڑھ چلا ہے یاعلی مدد
بیکار گفتگو سے مری جان چھوٹ جائے
ہو جائیں ختم کاش! گناہوں کی عادَتیں
احمدرضا کا صَدقہ مسلمان نیک ہوں
آقا! غمِ مدینہ میں رونا نصیب ہو
ہو روح تیرے قدموں پہ عطارؔ کی نثار
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
