دامن میں یارب اُن کا مقدّر بھی ڈال دےدیکھوں مَیں چلتے پھرتے رسُول ِ کریم کو
آنکھوں میں صدیوں قبل کے منظر بھی ڈال دےمیرے پیالے میں مرے اللہ کے حبیب
اپنی محبتوں کا سمندر بھی ڈال دےکیا کُچھ نہیں ہے روضہ منبر کے درمیاں
روضہ بھی دل میں ڈال دے منبر بھی ڈال دےمیدانِ حشر تک کی بجھانی ہے تشنگی
ساگر میں اپنے تُو مِری گا گر بھی ڈال دےبوصیری کو اُڑھائی تھی جو تُو نے خواب میں
وہ چادرِ شفا مِرے اُوپر بھی ڈال دےجائے جو اب کے ،لَوٹ کے آنا نہ ہو نصیب
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
