اس طرف بھی اک نظر مہر درخشانِ جمال
تم نے اچھوں پہ کیا ہے خوب فیضانِ جمال
تیری جاں بخشی کے صدقے اے مسیحائے زماں
فرش آنکھوں کا بچھائو رہ گزر میں عاشقو
مرکے مٹی میں ملے وہ نجدیو بالکل غلط
گرمیٔ محشر گنہگاروہے بس کچھ دیر کی
کرکے دعویٰ ہمسری کا کیسے منہ کے بل گرا
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
