ہر ایک مظلوم کی صدا میں ‘ حُسین تو بو لتا رہے گاجیسے ہیں تیرے اصول پیارے رسُول اھلِ رسُول پیارے
وہ تیرے لہجے میں سب یزیدوں کے رُو بُرو بولتا رہے گازمانہ کِتنا ہی بِیت جائے ، زبانِ تاریخ چُپ نہ ہوگی
تِرے حوالے سے چاکِ اسلام کا رفو بو لتا رہے گاتِری شہادت نے ساری صُبحوں کو ڈوبنے سے بچا لیا ہے
تُو ہر کِرن میں بغیر آواز ، بے گلو بو لتا رہے گاتِرے لبِ خشک سے جو پھُوٹی وہ تازگی حشر تک رہے گی
فنا کی شاخوں پہ بھی تِرا جذبہء نمو بو لتا رہے گاتِرے تصوّر کا زندگی بھر طواف کرتی رہیں گی آنکھیں
اذان کے بول بن کے تُو میرے چار سُو بو لتا رہے گابلند رکھّا عَلَم کو جس نے ، دِیے اُجالے حرم کو جس نے
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
