اے نمازو مجھے بھی وضو آگیاتشنگی سب کے ہونٹوں پہ جمنے لگی
قافلہ جب سر آبجو آگیالے کے ہمراہ کتنی بڑی فوج کو
کل بہتر سے لڑنے عدد آگیاخیمہء گل سے شعلے نکلنے لگے
کیا کوئی قاتل رنگ و بو آگیاہار کر بھی ہوئی فتح مظلوم کی
ظالموں کے وہ جب روبرو آگیاآنسوؤں نے مرے جب بھی آواز دی
کربلائے تصور میں تو آ گیامعصیت چیخ اٹھی میں چلی میں چلی
لب پہ جب اللہ ہو اللہ ہو آگیابولے سن کر مظفر کو ابن علی
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
