مجھے بُلالو شہِ مدینہ، یہ ہِجر کا غم ستا رہا ہے
ہے سہنا دُشوار یہ جُدائی، مِری ہو در تک شہا رَسائی
نہیں تمنائے مال و دولت، نہیں مجھے خواہشِ حُکومت
یہی تو حسرت رہی ہے دل میں، مجھے اَجَل بھی وہیں پہ آئے
ہے جھولی خالی اے شاہِ عالی کھڑا ہے در پر تِرا سُوالی
اے بینواؤ!گداؤ آؤ!، پَسارے دامن صَفیں بناؤ
گدائے در جاں بَلب ہے آقا، نِقاب اُٹھاؤ دکھا دو جلوہ
میں گورِ تِیرہ میں آپڑا ہوں ، فِرِشتے بھی آچکے ہیں سر پر
ہے نَفسی نَفسی چَہار جانِب، نثار جاؤں کہاں ہو مولیٰ
خدائے غفّار بخش دے اب حبیب کی لاج رکھ ہی لے اب
صَباجو پَھیرا ہو کُوئے جاناں ، تو غمزدہ کا سلام کہنا
— Unknown
