کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا
تَعَالَی اللہ شوکت تیرے نام پاک کی آقا
وکیل اپنا کیا ہے اَحمد مختار کو میں نے
بلاتے ہیں اسی کو جس کی بگڑی یہ بناتے ہیں
کھلیں اِسلام کی آنکھیں ہوا ساراجہاں روشن
نہ کر رُسوائے محشر واسطہ محبوب کا یارب
مرادیں مانگنے سے پہلے ملتی ہیں مدینہ میں
شب اَسری ترے جلوؤں نے کچھ ایسا سماں باندھا
یہاں کے ڈوبتے دَم میں ادھر جا کر اُبھرتے ہیں
غنی ہے دل بھرا ہے نعمت کونین سے دامن
طوافِ روضۂ مولیٰ پہ نا واقف بگڑتے ہیں
خزانِ غم سے رکھنا دور مجھ کواس کے صدقے میں
الٰہی بعد مردن پردہ ہائے حائل اُٹھ جائیں
سنا ہے روزِ محشرآپ ہی کا مونہہ تکیں گے سب
وجودِ پاک باعث خلقت مخلوق کا ٹھہرا
ہمیں بھی یاد رکھنا ساکنانِ کوچۂ جاناں
حسنؔ سرکارِ طیبہ کا عجب دَربارِ عالی ہے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
