کرم کی نظر تاجدارِ مدینہ کرم چاہتےہیں کرم کے بھکاری
ہے ربط دوامی جسےتیرےغم سے ہےوہ آشنا منتہاۓ کرم سے
نظر مجھ کو بخشی توذوقِ نظر دو زیارت سےاپنی سرفراز کردو
جہاں ساتھ دیتانہیں اپنا سایہ وہاں بےقرارکرم ان کا پایا
یہ طوفان ہم کو ڈرائیں گےکیسے بھنورجال اپنا بچھائیں گے کیسے
وہ سجدے اساسِ عمل مانتا ہوں وہ ساعت متاع عمل جانتا ہوں
کسی نے بھی سمجھا نہیں غیرہم کو جہاں بھی گۓ سب نے آنکھیں بچھائیں
— Unknown
