یا علیَّ المرتَضیٰ مولیٰ علی مشکلکُشا
صاحِبِ لُطف و عطا مولیٰ علی مشکلکُشا
علم کا میں شہر ہوں دروازہ اِس کا ہیں علی
جس کسی کا میں ہوں مولیٰ اُس کے مولیٰ ہیں علی
پیکرِ خوفِ خدا اے عاشقِ خیرُ الورٰی
بعدِ خُلفائے ثَلاثہ سب صَحابہ سے بڑا
قَلعۂ خیبر کا دروازہ اُکھاڑا آپ نے
پیکرِ جُودو سخا تُو میں فقیر وبے نوا
شَبَّر و شَبّیر کے والد ہوتم ماں فاطِمہ
میں گناہوں کا مریض اور آپ ہیں میرے طبیب
جان کو خطرہ ہے میری دشمنوں سے ہر گھڑی
حیدرِ کرّار! لے کے آؤ تیغِ ذُوالفِقار
مغفِرت کروایئے جنت میں لے کے جایئے
دل سے دنیا کی مَحبَّت دُور کر کے یا علی!
از پئے غوثُ الورا ہم کو نَجف بُلوایئے
شَبَّرو شبِّیر کے بابا مجھے دیدار ہو
اشکبار آنکھیں عطا ہوں دل کی سختی دور ہو
ایک ذرّہ اپنی اُلفت کا عنایت کر مجھے
بھیک لینے کیلئے دربار میں منگتا ترا
کیوں پھروں در در بھلا خیرات لینے کیلئے
نفسِ اَمّارہ ہو مغلوب اور سدا ناکام ہو
بے سبب بخشش ہو میری یہ دعا فرمایئے
کیجئے حق سے دعا ایمان پر ہو خاتمہ
— Unknown
