خدا نے اس قدر اُونچا کیا پایہ محمد کا
بحکم حق اُترتے ہیں فرشتے خاص رحمت کے
تعجب کیا اگر انساں گزارے عمر مدحت میں
سیہ کاروں کی کیا گنتی کہ دَرگاہِ الٰہی میں
عدیم المثل و لاثانی ہے وہ ذاتِ مبارک یوں
بڑھی جب ظلمتِ کفر و ضلالت بزمِ دنیا میں
کسی تیراک کو اُس کا کنارہ مل نہیں سکتا
شہنشاہِ مَدینہ بادشاہِ ہفت کشور ہے
تصدق ایسی رِفعت پر کہ برسوں قبل دنیا میں
نرالی پیاری پیاری روشنی ہے شمع باری میں
مَدینے کے مقدر عرش کی تقدیر پر قرباں
رَفَعْنَا کا رکھا ہے تاج سر پر حق تعالیٰ نے
نہ کیونکر مشک و عنبر مست ہوں گیسو کی خوشبو سے
اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَک سے یوں آواز آتی ہے
بصیرت حق نے دی ہے جن کی آنکھوں کو وہ کہتے ہیں
خرابی آنکھ کی ہے گر نہ دیکھے اُن کے جلوے کو
بلا وَصل نبی وَصل الٰہی غیر ممکن ہے
گنہگاروں کی اس سے مشکلیں آسان ہوتی ہیں
نہیں ہے جو غلامِ مصطفیٰ بندہ ہے شیطاں کا
جمیلؔ قادری ایسی سنا رنگیں غزل کوئی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
