خدا نے جس کے سر پر تاج رکھا اپنی رحمت کا
وہ ماحی کفر و ظلمت شرک و بدعات و ضلالت کا
مَداوا کیسے فرمائے کوئی بیمارِ فرقت کا
اَثر کیا ہوسکے گا مہرِ محشر کی حرارت کا
کبھی دِیدارِ حق ہوگا کبھی نظارہ حضرت کا
نہ کیوں ہو آشکارا تیرا جلوہ ذَرَّہ ذَرَّہ میں
دَمِ آخر سربالیں خرامِ ناز فرماؤ
دَمِ آخر سرِبالیں یہ فرماتے ہوئے آؤ
ہمیں بھی ساتھ لے لو قافلہ والو ذرا ٹھہرو
مری آنکھیں مَدینے کی زِیارت کو تر ستی ہیں
قسم حق کی وہ دن عیدین سے بڑھ کر میں سمجھوں گا
میں سمجھوں گا مری کشتِ تمنا میں بہار آئی
کلی کھل جائے گی دل کی جگر ہوجائے گا ٹھنڈا
میں سمجھوں گا ہوا جنت میں داخل موت سے پہلے
دِکھا دے فیضِ اُستادِ حسن حضارِ محفل کو
— Jamil Ur Rehman Qadri\
