خوشی سب ہی مناتےہیں میرےسرکارآتےہیں
خوشی ہے آمنہ کے گھر وہ آۓنورکے پیکر
دہن بھی نورنورہےبدن بھی نورنورہے
جودیکھاحسن یوسف کوتواپنی انگلیاں کاٹیں
فرشتوں کی یہ سنت ہےکہ آقاسےمحبت میں
ذرا جھنڈوں کو لہراؤ ذراہاتھوں کولہراؤخداکی اب رضا پاؤ
مہد میں چاند کو دیکھا تو نوری نور سے کھیلا
وہ جھولا نور کا جھولا سراپا نور کا جھولا
ولادت کی گھڑی آئی بہار اب جھوم کر چھائی
— Unknown
