کن کا حاکم کردیا اللہ نے سرکار کو
کچھ عرب پر ہی نہیں موقوف اے شاہِ جہاں
کاٹ کر یہ خود سر میں گھس کے بھیجا چاٹ لے
اس کنارے ہم کھڑے ہیں پاٹ ایسا دَھار یہ
رَبِّ سَلِّم کی دُعا سے پار بیڑا کیجئے
تو ہے وہ شیریں دَہن کھاری کنویں شیریں ہوئے
جس نے جو مانگا وہ پایا اور بے مانگے دیا
دل میں گھر کرتا ہے اَعدا کے ترا شیریں سخن
ظلمتِ مرقد کا اَندیشہ ہو کیوں نوریؔ مجھے
— Mustafa Raza Khan Noori\
