ذرّے ذرّے پہ چھایا ہوا نُور ہے،میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے
نُور پھولوں میں ہے نُور کلیوں میں ہے،نُور بازار میں نُور گلیوں میں ہے
ہر طرف رحمتوں کی ہے چھائی گھٹا، مَہکی مَہکی ہے کیا خُوب مَدنی فَضا
کیا بیاں دَشتِ طیبہ کی ہوں خُوبیاں ،پھُول تو پُھول کانٹے بھی دِلکش یہاں
کَیف ومستی میں ڈوبے ہوئے رات دِن،بھینی خوشبُوسے مَہکے ہوئے رات دِن
باغِ طَیبہ میں رہتی ہے ہَردم بَہار،آکے دیکھویہاں کا سَماں خُوشگوار
غمزدہ جو بھی دربار میں آگیا،شاہ کی وہ نگاہِ کرم پاگیا
دیکھو طیبہ کو کیسی فضیلت ملی، قبر انور اسی میں بنائی گئی
سَبْز گُنبد کے جلووں پہ قُربان جاں ، بلکہ قُربان ہے حُسنِ کَون و مکاں
خاکِ طیبہ میں رکّھی ہے رب نے شِفا،ساری بیماریوں کی ہے اس میں دَوا
آس مُجھ کو تمہارے کرم کی شہا،بھیک دے دو مجھے اپنے غم کی شہا!
پھر کرم اس پہ سرکار کا ہوگیا، بخت بیدار عطّارؔ کا ہوگیا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
