پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
دھوم ہے فرش سے تا عرش تری شوکت کی
حسن رنگینی و طلعت سے تمہارے جلوے
ذَرَّۂ دشتِ مدینے کی ضیا مہر کرے
پیار سے لے لیے آغوش میں سر رحمت نے
لاش اَحباب اسی دَر پر پڑی رہنے دیں
جلوۂ گر ہو جو کبھی چشم تمنائی میں
خاکِ پامال ہماری بھی پڑی ہے سرِ راہ
کیوں نہ وہ ٹوٹے دلوں کے کھنڈر آباد کریں
زینتوں سے ہیں حسینانِ جہاں کی زینت
نامِ آقا ہوا جو لب سے غلاموں کے بلند
عرش پہ کعبہ و فردوس و دلِ مومن میں
ترے محتاج نے پایا ہے وہ شاہانا مزاج
اپنے ذَرَّوں کے سیہ خانوں کو روشن کر دو
پورے سرکار سے چھوٹے بڑے اَرمان ہوں سب
— Hassan Raza Khan Barelvi\
