کوۓ نبی سے آنہ سکے ہم راحت ہی کچھ ایسی تھی
تکتے رہے یوسف جیسے بھی حشر میں ان کے چہرےکو
بولو اے جبریل کہ ان کی کیونکر تلیاں چومیں تھی
دنیا میں سرکار کی نعتیں پڑھتے رہےہراک لمحہ
پاس بلایا پاس بٹھایا عرش پہ اُن کو خالق نے
قبر میں حاکم جب پہنچے توہنس کر نکیروں نے دیکھا
— Unknown
