مصدر بیخ و بُن
مصحف لم یزل
پیش لفظ ازلجملہ اختتام
تجھ پر لاکھوں سلامفکر کیا جو تصور کی حد میں نہ آئے
وہ خدا جو گرفت خرو میں نہ آئے
اُس سے پردہ نہیں
اُس کا تو ہم نشیںاُس سے تو ہمکلام
تجھ پہ لاکھوں سلامکیا احاطہ کروں میں تِری ذات کا
تو ہے دولھا زمانے کی بارات کا
مطلع ہر طبق
ہر سحر کی شفقہر صدی کے امام
تجھ پہ لاکھوں سلامغرق تیری محبت میں جو دل نہیں
اُس کا ایمان، ایمانِ کامل نہیں
تیری چاہت کی خیر
تجھ کو چاہے بغیرمجھ پہ جینا حرام
تجھ پہ لاکھوں سلامہونٹ جب متصل ہوں تِرے اسم سے
روشنی پھوٹتی ہے مرے جسم سے
یوں تِری مشعلیں
میرے اندر جلیںجگمگاؤں تمام
تجھ پہ لاکھوں سلامسارے قرآن کو تیری گواہی کہوں
یا تجھے ہی کتابِ الٰہی کہوں
تو نصابِ کرم
امن تیرا علمعدل تیرا نظام
تجھ پہ لاکھوں سلامجنت فکر میں ذہن رہنے لگا
میں غزل گو تِری نعت کہنے لگا
تیرا اِحسان ہے
میری پہچان ہےاب فقط تیرا نام
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
