دل نثار مصطفیٰ جاں پائمال مصطفیٰ
دونوں حاکم تھے مرے حرف دعا میں غرق و محو
سب سمجھتے ہیں اسے شمع شبستانِ حرم
عالم ناسوت میں اورِ لاہوت میں
عظمت تنزیہہ دیکھی، شوکت تشبیہ بھی
دیکھیے کیا حال کر ڈالے شبِ یلداۓ غم
ذرہ ذرہ بزمِ ہستی کا ہے اصغرؔ، ضوفشاں
— Asghar Gondvi\
