رونقِ کل اولیا یاغوثِ اعظم دَسْتْگِیر
آپ ہیں پیروں کے پیراورآپ ہیں روشن ضمیر
اولیاء کی گردنیں ہیں آپ کے زیرِ قدم
تھر تھر اتے ہیں شہا جِنّات تیرے نام سے
پیدا ہو تے ہی رکھے رَمضاں میں روزے، دن میں دودھ
جس طرح مُردے جِلا ئے اِس طرح مُرشِد مرے
اہلِ محشر دیکھتے ہی حشر میں یوں بول اُٹھے
آپ جیسا پیر ہو تے کیا غَرَض دَردَر پھروں
گو ذلیل و خوار ہوں بدکار و بدکردار ہوں
راستہ پُر خار، منزِل دُور، بَن سُنسان ہے
غوثِ اعظم! آیئے میری مدد کے واسِطے
آفتیں بھی دُور ہوں ، رنج وبلا کافور ہوں
اِذن دو بغداد کا ہر اک عقیدت مند کو
میٹھے مُرشِد حاضِری کو اِک زمانہ ہو گیا
میرے میٹھے میٹھے مُرشِد آیئے نا خواب میں
اپنی اُلفت کی پِلا کر مَے مجھے یامُرشِدی
لمحہ لمحہ بڑھ رہا ہے ہا ئے ! عصیاں کا مَرَض
مُرشِدی مجھ کو بنا دے تُو مریضِ مصطَفٰے
اپنے رب سے مصطَفٰے کا غم دلادے مرشِدی
اب سِرہانے آؤ مُرشِد اور مجھے کلمہ پڑھاؤ
ہے یِہی عطّارؔ کی حاجت مدینے میں مرے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\