اُن کی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤںاُن کی راہوں پہ مجھے اتنا چلانا یارب
کہ سفر کرتے ہوئے گردِ سفر ہو جاؤںزندگی نے تو سمندر میں مجھے پھینک دیا
اپنی مٹھی میں وہ لے لیں تو گوہر ہو جاؤںمیرا محبوب ہے وہ راہبرِ کون و مکاں
جس کی آہٹ بھی میں سُن لوں تو خضر ہو جاؤںاِس قدر عشقِ نبی ہو کہ مٹا دوں خود کو
اِس قدر خوفِ خدا ہو کہ نڈر ہو جاؤںجو پہنچتی رہے اُن تک جو رہے محوِ طواف
ایسی آواز بنوں، ایسی نظر ہو جاؤںضرب دوں خود کو جو اُن سے تو لگوں لاتعداد
وہ جو مجھ میں سے نکل جائیں صفر ہو جاؤںآرزو اب تو مظفر تو جو کوئی ہے تو یہ ہے
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
