میلاد نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ یہاں ہوتا
میلاد نہ ہوتا تو سورج نہ چمک ہوتی
میلاد نہ ہوتا تو تارے نہ سحر ہوتی
میلاد نہ ہوتا تو دھرتی نہ فلک ہوتے
میلاد کےہونے نےتخلیق کا دَر کھولا
یلاد کے ہونے نے ہونے کا یقیں بخشا
میلاد نے بخشی ہے انسان کو زیبائی
مسجود اکیلا تھا سجدہ نہ اطاعت تھی
تخلیقِ محمدؐ نے دنیا کو بسایا ہے
گلیاں بھی اسی کی ہیں، رستےبھی اسی کےہیں
ہرسمت ہےفطرت کےلہجےمیں کھنک اس کی
تاروں نے چمک کریہ میلاد منایا ہے
تاریخ نےصدیوں سے میلاد منایا ہے
میلاد منایا ہے خودکعبےنےجھک جھک کے
سیرت کو منانے کی صورت بھی کہاں ہوتی
میلاد کی دھومیں تو خود رب نےمچائی ہے
اُس نور سے مولا نے دھرتی کو بنایا ہے
— Anwar Ul Mustafa Hamdami\
