مُبَارَک ہو حبیبِ ربِّ اَکبر آنے والا ہے
اندھیروں میں بھٹکتے پھرنے والوں کو مبارَک ہو
مبارَک بدنصیبوں کو مبارَک ہو غریبوں کو
گنہگارو نہ گھبراؤ سِیَہ کارو نہ غم کھاؤ
لئے پرچم اُتر آئے ہیں جبریل آسماں سے آج
کرو گھر گھر چَراغاں سبز پرچم آج لہراؤ
اگر نہ آج جھومو گے تو کب جُھومو گے دیوانو!
تَراوَت کیوں نہ ہو حاصل مرے قلب و جِگر کو آج
دلِ غمگین کو مل جائے گا سامان راحت کا
جو ہے سردار، عالَم کے سبھی سجدہ گزاروں کا
مبارَک غم کے مارو! غم غَلَط ہوجائیں گے سارے
جہاں میں ظُلمتوں کا چاک ہو گاآج سے سینہ
بِحَمْدِاللہ ایماں اب توُ میرا لے نہیں سکتا
خبر ہے اَبرِ رحمت آج کیوں دنیا پہ چھائے ہیں
مبارَک ہو حلیمہ سعدیہ تجھ کو مبارَک ہو
اُٹھو تعظیم کی خاطِر کہ گھر میں آمِنہ کے اب
اٹھاؤ سبز پرچم اور چلو سب آمِنہ کے گھر
تسلّی تو رکھو سیراب بھی ہوجاؤ گے عطّارؔ
— Unknown
