مجھ پہ مولا کا کرم ہے ان کی نعتیں پڑھتا ہوں
کوئی گفتگو ہو لب پرتیرا نام آ گیا ہے
جسے پی کے شیخ سعدی بَلَغَ العُلیٰ پکارے
مجھ پہ مولا کا کرم ہے ان کی نعتیں پڑھتا ہوں
جتنا دیا سرکار نے مجھ کو اتنی میری اوقات نہیں
تو بھی وہیں پر جا اس در پرسب کی بگڑی بنتی ہے
مجھ پہ مولا کا کرم ہے ان کی نعتیں پڑھتا ہوں
تیراوصف بیاں ہوکس سے تیری کون کرےگا بڑائی
اے رضاخود صاحب قرآں ہے مداح حضور
مجھ پہ مولا کا کرم ہے ان کی نعتیں پڑھتا ہوں
غم نہیں چھوڑ دے یہ سارا زمانہ مجھ کو
بخش دی نعت کی دولت میرے آقا نے مجھے
— Unknown
