تری مدح خواں ہر زباں غوثِ اعظم
پناہِ غریباں تری ذات والا
زمانہ نہ کیونکر ہو مہمان کہ تم نے
تری مجلس وَعظ میں آتے اکثر
جسے شک ہو وہ خضر سے پوچھ دیکھے
نہ لے بھول کر نام بلبل چمن کا
جو دیکھے ترا گل ستاں غوثِ اعظم
تو ہے نور کا شمع داں غوثِ اعظم
ہے نوری تیرا خانداں غوثِ اعظم
ہیں سینے میں تیرے نہاں غوثِ اعظم
تمہاری وِلایت سیادت کرم کا
ترے وَعظ میں آکے شاہِ عرب نے
ہوئے دیکھ کر تجھ کو کافر مسلماں
قلوبِ خلائق کی بابِ جناں کی
بخارا و اَجمیر و مارِہرہ کلیر
کریں جبہ سائی جہاں تاج والے
مٹائے ترے دَر پہ جو اپنی ہستی
ملے اب تو گلزارِ بغداد مجھ کو
ملے گی ہمیں تیرے دامن کے نیچے
دوعالم میں ہے کون حامی ہمارا
ذَرا صدقِ دِل سے پکارو تو اُن کو
نہ ہو مبتلا وہ کبھی رنج و غم میں
اگر ذِکر میں تیرے گزرے تو بہتر
ملے رَنج و اَفکار سے مجھ کو مہلت
مرے دم میں جب تک رہے دم رہوں میں
دَمِ صور مرقد سے کہتا اُٹھوں گا
ہمارے قصور و خطا بخشوا کر
کیا مرغ سوکھی ہوئی ہڈیوں کو
جمیلؔ اب ہو ساکت مقامِ اَدَب ہے
— Jamil Ur Rehman Qadri\
