حلیمہ میں تیرے مقدراں توں صدقے
نی سوھنے دا مکھڑا نورانی نورانی
انگلی نپا کے توں ویہڑے دے اندر
نی عرشاں دا چن ہے کھلونا وی جسدا
کدی نال تیرے نزاکت تھیں تھیں سوھنا
نوھوا کے سجا کے تے کجلا وی پا کے
— Unknown
حلیمہ میں تیرے مقدراں توں صدقے
نی سوھنے دا مکھڑا نورانی نورانی
انگلی نپا کے توں ویہڑے دے اندر
نی عرشاں دا چن ہے کھلونا وی جسدا
کدی نال تیرے نزاکت تھیں تھیں سوھنا
نوھوا کے سجا کے تے کجلا وی پا کے
— Unknown
سمجھا نہیں ہنوز مرا عشقِ بے ثبات
جو ذکر زندگی کے فسانے کی جان ہے
اک خالقِ جہاں ہے تو اک مالکِ جہاں
بزمِ حدوث سے ہے مقدم ترا وجود
اب تک سجی ہوئی ہے ستاروں کی انجمن
ارشاد مارمیت سے ظاہر ہوا یہ راز
اعظمؔ میں ذکرِ شاہِ زمن کیسے چھوڑ دوں
— Muhammad Azam Chishti\
پردہ رُخِ اَنور سے جو اُٹھا شبِ معراج
حوروں نے بھی گایا یہ ترانہ شبِ معراج
گیسو کھلے گھنگھور گھٹا اُٹھی کہ ہم پر
اے رحمت عالم تیری رحمت کے تصدق
جس وقت چلی شاہِ مَدینہ کی سواری
خورشید و قمر اَرض و سما عرش و مَلائک
وہ جوش تھا اَنوار کا اَفلاک کے اُوپر
مہمان بلانے کے لیے اپنے نبی کو
یہ شانِ جلالت کہ نہایت ہی اَدب سے
جبریل بھی حیران ہوئے دیکھ کے رُتبہ
جبریل تھکے ہوگئے سرکار روانہ
ہمراہ سواری کے تھیں اَفواجِ مَلا ئک
یوں مسجد اَقصیٰ میں نماز اس نے پڑھائی
ہر ایک نبی بلکہ سب اَفلاک کے قدسی
جانِ دوجہاں رِفعت سرکار پہ قرباں
مُدت سے جو اَرمان تھا وہ آج نکالا
آراستہ ہو خلد مؤدب ہوں فرشتے
پیہم چلی آتی تھیں دُعاؤں کی صدائیں
تھی راستہ بھر اُن پہ دُرُودوں کی نچھاور
دولہا تھے محمد تو براتی تھے فرشتے
اللہ کی رحمت سے وہ مہکا گل وَحدت
روشن ہوئے سب اَرض و سما نور سے اس کے
تھا چرخِ چہارُم پہ کوئی طور کے اُوپر
جب پہنچے مقامِ فَتَدَلّٰی پہ محمد
اے صَلِّ عَلٰی بزمِ تَدَلّٰی میں پہنچ کر
ممکن ہی نہیں عقل دوعالم کی رَسائی
عرش و مَلک و اَرض و سما جنت و دوزخ
تفصیل سے کی سیر مگر اس پہ یہ طرہ
زنجیر در پاک کی ہلتی ہوئی پائی
اے ماہِ مَدینہ تری تنویر کے قرباں
لو عاصیو وہ تم کو وہاں پر بھی نہ بھولے
اے مومنو مژدہ کہ وہ اللہ سے لائے
بھیجوں گا میں اُمت کو تری خلد میں پہلے
اُس میں سے جمیلؔ رضوی کو بھی عطا ہو
— Jamil Ur Rehman Qadri\
آقا کے دیوانے کہتے ہیں
جس نے یارو مُردے جلاۓ
جن کا رتبہ سب سے جدا ہے
اللہ کی تصویر ہے پیارا
رب نے جس کو یار بنایا
جس نے کسی کا دل نہیں توڑا
— Unknown
خزاں رتوں میں کھلے ہیں کھجور کے پتے
یہاں سے قافلۃ دینِ حق گزرنا ہے
میں چھوکے پاۓ محمدؐ کی خاک ڈھونڈتا ہوں
جلا ہوں دشتِ گماں کی جھلتی دھوپ میں جب
رہے ہیں شعبِ ابی طالب آپ کے ساتھی
پھر ان کے پھل میں کبھی گٹھلیاں نہیں آئیں
— Qasim Yaqoob\
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
تجلیات سے بھر لوں میں اپنا کاسۂ جاں
حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
ملے مجھے بھی زبانِ بوصیری و جامی
مزا تو جب ہے فرشتے یہ میں کہہ دیں
— Sabeeh Rehmani\
میں تو ہر حال میں خوش رہوں آپؐ سے
کامرانی بھی پھر پاؤں چومے مری
آپؐ ہیں آسرا بے کسوں کے لیے
خواب ہی میں عطا ہو یہ اعزاز بھی
ایک نسبت سے پہچانے دنیا مجھے
— Qaim Naqvi\
ہر جا بج رہا ہے سرکار کا ترانہ
نوری بھی پڑھ رہے سرکار کا ترانہ
سارے جہاں کے اندر جس وقت جا کے دیکھو
لب چومتے ہیں اُس کے آکے فرشتے نوری
کعبے کا ہر مینار فلکوں کا تارا تارا
حورو غلماں سارے ثاقبؔ ہر وقت پڑھ رہے ہیں
— Unknown
خوابوں میں مدینے کی فضا دیکھنے والا
نظروں میں رہے جس کے جمالِ شہِؐ والا
نبیوں میں، وہ بندوں میں، بشر میں جہاں دیکھو
روشن ہے ازل سے جو مرے گوشہء دل میں
دنیا کا طلب گار رہا ہے نہ رہے گا
پابندی احکام خداوندی یہی ہے
قدموں سے میں مسرور لپٹ جاؤں، جو مل جاۓ
— Masroor Kaifi\
بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہے
رَنج و اَلم میں مبتلا وہ ہے جو تجھ سے پھر گیا
اے بندگانِ مُحْیِ دِیں دِل سے ذرا فریاد ہو
محبوبِ سبحانی ہو تم مقبولِ رَبانی ہو تم
ہوں نام لیوا آپ کا عاصی سہی مجرم سہی
بغداد کی گلیوں میں ہو آقا مرا لاشہ پڑا
کیوں پوچھتے ہو قبر میں مجھ سے فرشتو دَم بدم
جب رُوبرو قہار کے دَفتر کھلیں اَعمال کے
مشکل پڑی جو سامنے آئی ندا بغداد سے
اَفکار میں ہوں مبتلا کوئی نہیں تیرے سوا
اُٹھ بیٹھ گنبد سے ذرا چمکا دے بخت اِسلام کا
تاریک شب چوروں کا بن ساتھی نہ کوئی راہبر
قسمت ہی کھل جائے مری گر اے جمیلؔ قادری
— Jamil Ur Rehman Qadri\