فلک کے نظارو، زمیں کی بہارو،
انوکھا نرالا وہ ذیشان آیا
ہوا چار سُو رحمتوں کا بسیرا
ہواؤں میں جذبات ہیں مرحبا کے،
سماں ہے ثنائے حبیبِ خدا کا
کہاں میں ظہوؔری کہاں ان کی باتیں
— Muhammad Ali Zahoori\
فلک کے نظارو، زمیں کی بہارو،
انوکھا نرالا وہ ذیشان آیا
ہوا چار سُو رحمتوں کا بسیرا
ہواؤں میں جذبات ہیں مرحبا کے،
سماں ہے ثنائے حبیبِ خدا کا
کہاں میں ظہوؔری کہاں ان کی باتیں
— Muhammad Ali Zahoori\
ایسا کرم کیا گیا بختِ شکستہ حال پر
بیٹھا ہوں گرچہ فرش پر، چرچے ہیں میرے عرش پر
گرد و غبار سے بچا، اور دیار سے بچا
رحمتِ دوجہاں کا نام، میرے بنا گیا ہے کام
رُخ سوۓ طیبہ کرلیا، سینے میں نور بھر لیا
سائلِ مصطفیٰؐ ہوں میں، شاعرِ نعتیہ ہوں میں
اذنِ حضورؐ ہوگیا، دل میں سرور بوگیا
مجھ سے کیا گیا حسد، آپ نے بخش دی مدد
یہ جو نبیؐ کی نعت ہے، میری یہی برات ہے
— Ali Yasir\
آپؐ کی مدح ہے کس کے امکان میں
حمد کے حرف لکھوں کہ میں نعت کے
اس کو کہتے ہیں تکمیلِ انسانیت
ہم نبیؐ کی محبت سے باہر کہاں
اسوۃ مصطفیٰؐ کا چراغ آج بھی
— Mehshar Badayuni\
اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
ہر خواہشِ نفس میری اک بت ہے میرے دل کا
جو رنگ کہ جامی پر رومی پہ چڑھایا تھا
خرقانی و بسطامی منصور نے جو پی تھی
قدرت کی نگاہیں بھی جس چہرے کو تکتی تھیں
اے کاش ریاضؔ آۓ مژدہ یہ مدینے سے
— Unknown
اے خاکِ مدینہ ! تِرا کہنا کیا ہے
شَرَف مصطَفٰے کے قَدم چُومنے کا
مُعَطَّر ہے کتنی تُو خاکِ مدینہ
لگاؤ تم آنکھوں میں خاکِ مدینہ
مریضو! اُٹھا کر کے خاکِ مدینہ
مدینے کی مِٹّی ذرا سی اُٹھاکر
عقیدت سے خاکِ مدینہ بدن پر
تُجھے واسِطہ خاکِ طیبہ کا یاربّ!
ہمیں موت خاکِ مدینہ پر آئے
مِری نَعش پر آپ خاکِ مدینہ
پسِ مَرگ مولیٰ تُو مٹّی ہماری
بدن پر ہے عطّارؔ کے خاکِ طیبہ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
ہے تیری عنایات کا ڈیرا میرے گھر میں
جاگا تیری نسبت سے یہ تاریک مقدر
مدحت نے تیری مجھ کو یہ اعزاز دیا ہے
دروازے پہ لکھا ہے تیرا اسم گرامی
سیرت نے تیری جینے کا انداز سکھایا
انداز در و بام کے کچھ اور ہی ہوں گے
خالؔد یہ کرم نعتِ محمد کا ہے مجھ پر
— Khalid Mehmood Khalid\
ان کی رحمت ملی جب مدینے گیا
چٹکی دل کی کلی جب مدینے گیا
ان کی خوشبو سے راہیں مہکتی ہوئیں
حاضری ان کے در کی بڑی چیز ہے
روح مردہ کو ان کے کرم سے ملی
شہرِ طیبہ کا کیا ہے جہاں میں مقام
سبز گنبد پہ پہنچی نظر تو مٹی
ہر طرف ہی نظر آئی مجھ کو ریاضؔ
— Unknown
محبتوں کا اُجالا اگر کہیں پر ہے
فروغ فصلِ بہاراں اسی چمن سے ہے
مرے لیے وہ کفِ دستِ مہرباں ہے بہت
رداۓ بارِ امانت کے بعد بھی اب تک
غلامی شہِ بطحا مرا تعارف ہے
— Ghulam Rasool Zahid\
شعور عشق مدینے کی سر زمیں سے ملا
ہے اتباعِ پیمبرؐ ہی اتباع خدا
ملا نہ ملتِ بیضا کو پھر زمانے میں
ہوۓ تھے جس کے طفیل ایک اپنے بیگانے
اگر ہے وجہ شرف کچھ تو آدمیت ہے
خدا نے آپ کہا ہے تجھے سراجِ منیر
ہزار بار بھی دی ہے درِ نبی پہ صدا
— Mehshar Rasool Nagri\
پہنچوں اگر میں روضۂ اَنور کے سامنے
جالی پکڑ کے عرض کروں حالِ دِل کبھی
ہر دَم یہ آرزو ہے مَدینے کے چاند سے
جنت کی آرزو ہے نہ خواہش ہے حور کی
ہے آرزوئے دِل کہ میں ہندوستاں کو چھوڑ
شاہِ مدینہ طیبہ میں مجھ کو بلا تو لیں
طیبہ بلا کے اپنا سگِ دَر بنائیے
یوں میری موت ہو تو حیاتِ اَبد ملے
نکلے جو جاں تو دیکھ کے گنبد حبیب کا
منگتا کی کیا شمار سلاطینِ رُوزگار
دونوں جہاں کو نعمت کونین بانٹنا
یوں اَنبیا میں شاہِ دوعالم ہیں جلوہ گر
خوشبوئے مشک زُلفِ مُعَنْبَر کے سامنے
گلزار و باغ و گل کی نہ خواہش رہے تجھے
کیوں روکتے ہو خلد سے مجھ کو ملائکہ
جاری ہے اَلْعَطَش کی صدا ہر زبان پر
دِکھلا رہے ہیں سوکھی زبانیں حضور کو
جو کوئی بھی کرے گا شفاعت وہ ان کے پاس
اِنکار کر نہ فضلِ نبی سے تو اے شقی
ہے قادری جمیلؔ کی یہ عرضِ آخری
— Jamil Ur Rehman Qadri\