نعت سرکار کی پڑھتا ہوں میں
یہ سنا ہے کہ بہت گور اندھیری ہو گی
کبھی یٰسین کبھی طٰہٰ کبھی والیل آیا
حشر کا دن بھی عجب دیکھنے والا ہو گا
ان کو مختار بنایا ہے میرے اللہ نے
میرا دامن تو گناہوں سے بھرا ہے الطاؔف
— Syed Altaf Hussain Gillani\
نعت سرکار کی پڑھتا ہوں میں
یہ سنا ہے کہ بہت گور اندھیری ہو گی
کبھی یٰسین کبھی طٰہٰ کبھی والیل آیا
حشر کا دن بھی عجب دیکھنے والا ہو گا
ان کو مختار بنایا ہے میرے اللہ نے
میرا دامن تو گناہوں سے بھرا ہے الطاؔف
— Syed Altaf Hussain Gillani\
ہادی و رہ نما آپؐ کا نقشِ پا
اپنا منشور ہے، اپنا آئین ہے
یہ زمیں کتنی روشن ہوئی، جس گھڑی
کاش اہلِ نظر کی نظر میں رہے
آپؐ کی شان کا تو ہے مذکور کیا
بس ہمیں اور کچھ بھی نہیں چاہیے
ہوگی کیا آُپؐ کی شانِ حسن و جمال
سارے عالم پہ یہ راز کُھلنے لگا
ہر زمانے کے ماتھے پہ مرقوم ہے
اب اسی سمت میں سب سفر ہیں مرے
آپؐ کے شہر میں جب بھی حاضر ہوا
اپنے اعمال نامے میں مَیں نے لکھا
میں نے ہر تیرگی پر نسیمِ سحرؔ
— Naseem E Sehar\
میری قسمت جگانے کو نبی کا نام کافی ہے
غموں کی دھوپ ہو یا پھر ہوائیں تیز چلتی ہوں
خوشی ہو یا کوئی غم ہو نبی کا نام لیتا ہوں
نبی کا نام لیتا ہوں سکونِ قلب ملتا ہے
جو پوچھا کملی والے نے کہا صدیق اکبر نے
سلگتی آگ پہ حبشی کے ہونٹوں سے صدا آئی
یہی کہتا ہے مہکی بھی یہی سب لوگ کہتے ہیں
— Unknown
جلد ہم عازِمِ گلزارِ مدینہ ہوں گے
اب تو نورانی چمن زارِ مدینہ ہوں گے
سبز گنبد کی وہاں خوب بہاریں ہوں گی
وَجد آجائے گا قسمت کو بھی اُس دم وَاللہ
اُن کی رحمت سے جو مل جائے بقیعِ غَرقَد
قافِلے کی یوں مدینے سے جُدائی ہوگی
نَزع میں قبر میں محشر میں وہ پائیں آرام
حشر سے کیوں ہو پریشان گنہگارو تم
اُن کو حاصل مِرے آقا کی شَفاعت ہوگی
میری سرکار کا آئے گا بُلاوا اُن کو
نَزع میں عاشِقوں کی عید ہی ہو جائے گی
حشر میں جائیں گے عطارؔ یُوں اِن شاءَ اللہ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
سکونِ قلب ہے خُلدِ نظر مدینہ ہے
تمام حسن و لطافت تمام رعنائی
ڈرا سکی نہ مجھے شامِ غم کی تنہائی
ہزار شہر ہیں دنیا میں شاد اور آباد
مدینے جا کے ہُوا ہے عجیب حال مرا
نہ پوچھ مجھ سے مرے مستقر کا حال احوال
بہانے پاۓ خرد ڈھونڈتا ہی رہتا ہے
مسافرانِ رہ شوق اتنا جانتے ہیں
مجھے نہیں کسی منظر سے واسطہ اسلمؔ
— Dr Aslam Farukhi\
نگاہ مصطفیٰ کی جدھر ہو رہی ہے
وہ خاطر میں لاتے نہیں بادشاہی
تصور میں لمحات لا کر تو دیکھو
ثنا خوانیِ مصطفیٰ کی کی بدولت
تڑپتے ہوئے جو سکوں مل رہا ہے
ہے رشک ملائک جو آقا کے در پر
میں ہر شب تری راہ تکتا ہوں آقا
عجب درد ہے یہ جدائی کا افضؔل
— Afzal Noshahi\
اللہ اور نبی پر ایمان ہے میرا
تمہارے ہیں زمین و آسماں ایمان ہے میرا
خدا کے اذن سے والی بنے غیبی خزانوں کے
طلب قطرہ کرے کوئی عطا دریا وہ کرتے ہیں
نجوم آفتاب و مہتاب و چاندنی اُن سے
خدائی راز سے واقف نبیء غیب داں سرور
لواءالحمد ہاتھوں میں شفاعت ان کی مرضی سے
اجاگر ہو گۓ کون ومکاں تاباں ہوۓ ذرے
— Unknown
دلوں سے ہوکے گزرتا ہوا مدینے کو
میں اس کے ساتھ تصور میں چلتا جاتا ہوں
ہزار حسرت و ارماں کے ساتھ دیکھتا ہے
بدن کا دشت سُلگتا تھا ایک مدت سے
مجھے سکون کی دولت نصیب ہوتی ہے
خیال و خواب میں دل میں نگاہ میں نصرتؔ
— Nusrat Siddique\
اے ہوا
اے ہوا
اے ہوا
— Ejaz Rizvi\
جدھر دیکھوں مدینے کا حرم ہو
کہاں سرکار دولت مانگتا ہوں
جب آقا آخِری وقت آئے میرا
کرے پرواز روحِ مُضطَرِب یوں
بقیعِ پاک کی لِلّٰہِ اب تو
جو میٹھے مصطَفٰے کے غم میں روئے
ہمارے حالِ دل سے تم تو واقِف
اندھیرا لَحد میں ہے آہ! چھایا
اسے کیا خوفِ محشر ہو کہ جس کا
مٹا سکتا نہیں کوئی بھی اس کو
غمِ محبوب میں روتی رہے جو
شہا جتنے بھی دیوانے ہیں تیرے
جو تم چاہو یقینا دور مجھ سے
کرے آنکھوں سے سَیلِ اشک جاری
سدا کرتا رہوں سنَّت کی خدمت
کریں اسلامی بہنیں شرعی پردہ
دکھا دو سبز گنبد کی بہاریں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\