حضور آپؐ آۓ تو دل جگمگاۓ
حضور آپؐ آۓ تو آئی بہاریں
ادب سے پکاریں ملائک بھی سارے
سب انبیاء بھی سلامی کو آۓ
محشر میں سب گھبرا گۓ تھے
حضور آپؐ آۓ تو دل جگمگاۓ
— Unknown
حضور آپؐ آۓ تو دل جگمگاۓ
حضور آپؐ آۓ تو آئی بہاریں
ادب سے پکاریں ملائک بھی سارے
سب انبیاء بھی سلامی کو آۓ
محشر میں سب گھبرا گۓ تھے
حضور آپؐ آۓ تو دل جگمگاۓ
— Unknown
دے کے روضے پہ حاضری میں نے
مل گیا اذن باریابی کا
تیرگی چھٹ گئی کہ دیکھی ہے
پائی اس خوش کلامؐ کے صدقے
ہیں مدینے میں نقش پاۓ نبیؐ
آج حسانؔ جیسے شاعر کی
ذکرِ اللی اور درود نبیؐ
— Sarfraz Shahid\
دشتِ مَدینہ کی ہے عجب پربہار صبح
مونھ دھو کے جوئے شیر میں آئے ہزار صبح
لِلّٰہ اپنے جلوۂ عارِض کی بھیک دے
روشن ہیں ان کے جلوۂ رنگیں کی تابشیں
رکھتی ہے شامِ طیبہ کچھ ایسی تجلیاں
نسبت نہیں سحر کو گریبانِ پاک سے
آتے ہے پاسبانِ دَرِ شہ فلک سے روز
اے ذَرَّۂ مَدینہ خدا را نگاہِ مہر
زُلف حضورِ عارِضِ پرنور پر نثار
نورِ وِلادَتِ مہِ بطحیٰ کا فیض ہے
ہر ذَرَّۂ حرم سے نمایاں ہزار مہر
گیسو کے بعد یاد ہو رخسارِ پاک کی
کیا نورِ دِل کو نجدیٔ تیرہ دَروں سے کام
حُسنِ شبابِ ذرۂ طیبہ کچھ اَور ہے
بس چل سکے تو شام سے پہلے سفر کرے
مایوس کیوں ہو خاک نشیں حُسنِ یار سے
کیا دشتِ پاکِ طیبہ سے آتی ہے اے حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
اے کوۓ محبوبؐ کے مسافر
جو دل میں اتریں حسین منظر
نظر میں ہو جب کہ سبز گنبد
ولادتِ مصطفیٰ ﷺ کی جاء پر
کرم جو ان کا ہو تم پہ زائر
بہا کے عشق کے یہ جواہر
یہ دور دوری ہو بس حضوری
ذرا سے دانے انہیں کھلا کر
نہ کھاۓ ٹھوکر تیرا اجاگر
— Unknown
شانِ حضور فکرِ بشر میں نہ آسکے
تفصیل کیا بیان ہو ان کے عروج کی
والفجر ان کے چہرے کو قرآن نے کہا
دیکھے جو ایک بار مدینے کی رونقیں
کو ہوسکا نہ ذکر محمدﷺ سےآشنا
جس پر ظہوریؔ ان کی نگاہِ کرم رہے
— Muhammad Ali Zahoori\
سوہنا آیا تے سج گئے نے گلیاں بازار
ثانی نہ کوئی میرے سوہنے نبی ﷺ لجپال دا
کیوں نا سوہنے دیں صفتاں کراں میں
میرا تے ایمان اے توسی میرے کول اوہ
ایڈا سوہنا نبی کوئ دنیا تے آیا نہیں
سونا آیا تی سج گا نی گالیان بازار
— Unknown
کچھ بھی ہو، خوۓ یار سے ہٹنے کی خو نہ ہو
مضمون آفرینی و نکتہ سرائی میں
میری سپہ مجھی پہ نہ تلوار کھینچ لے
بیکار ہی نہ جائیں سخن کی ریاضتیں
جیسے کسی نے اپنی عبادت کے زعم میں
ایسا نہ ہو کہ اہلِ محبت کے نام پر
اے صدقِ عشق زاد مرے سچ کی لاج رکھ
اے عشق سینہ سوز مرے دل سے دل ملا
تجھ پر اگر میں شعر لکھوں تجھ کو بھول کر
میں خاک ڈالتا ہوں زر و سیمِ حرف پر
مقبول اہلِ بیتِ محبت رہوں سعود
— Saud Usmani\
حضور میری تو ساری بہارآپ سے ہے
کہاں وہ ارض مدینہ کہاں میری ہستی
میری تو ہستی کیا ہے میرے غریب نواز
سیاہ کار ہوں آقا بڑی ندامت ہے
محبتوں کا صلہ کون ایسے دیتا ہے
یہ لفظ نعت کے جتنے ہیں آپ دیتے ہیں
حضور آپ کی یادوں میں اشک رحمت ہے
ہے ذکر آپ کا ایسا کہ آنکھ برآئے
— Unknown
وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس وضُحٰے کرتے ہیں
ماہِ شق گَشْتہ کی صورت دیکھو کانپ کر مہر کی رَجعت دیکھو
تُو ہے خورشیدِ رسالت پیارے چُھپ گئے تیری ضِیا میں تارے
اے بَلابے خِرَدیِ کفّار رکھتے ہیں ایسے کے حق میں اِنکار
اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم جانور بھی کریں جن کی تعظیم
رِفعت ذِکر ہے تیرا حصّہ دونوں عالم میں ہے تیرا چرچا
اُنگلیاں پائیں وہ پیاری پیاری جن سے دریائے کرم ہیں جاری
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد
آستیں رحمتِ عالم الٹے کمرِ پاک پہ دامن باندھے
جب صبا آتی ہے طیبہ سے اِدھر کِھلکِھلا پڑتی ہیں کلیاں یکسر
تُو ہے وہ بادشہ کون و مکاں کہ ملک ہفت فلک کے ہرآں
جس کے جلوے سے اُحد ہے تاباں معدنِ نور ہے اس کا داماں
کیوں نہ زیبا ہو تجھے تا جوری تیرے ہی دم کی ہے سب جلوہ گری
ٹُوٹ پڑتی ہیں بلائیں جن پر جن کو ملتا نہیں کوئی یاور
لب پر آجاتا ہے جب نامِ جناب منھ میں گُھل جاتا ہے شہدِ نایاب
لب پہ کس منہ سے غمِ الفت لائیں کیا بلا دِل ہے الم جس کا سنائیں
اپنے دِل کا ہے اُنہیں سے آرام سونپے ہیں اپنے اُنہیں کو سَب کام
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
عشق میں تیرے کبھی کاش پگھل کر دیکھو
عین ممکن ہے کہ سرکار ﷺ چلے آئیں ابھی
یہی سنتے ہیں کہ ذروں میں چھپے ہیں خورشید
سر میں سودا ہے یہی دیکھوں مدینے کی بہار
سر سے پاؤں تک میں بوں آنکھ شہا دید کے وقت
روتے بلکتے میں گروں قدموں پہ
وجہ تخلیق دو عالم کے اجاگر جلوے
— Unknown