روشنی خواب ہے تعبیر ترے دم سے ہے
تیرا کردار ہے انسان کی عظمت کا امیں
یہ جہاں ایک خرابے کے سوا کچھ بھی نہیں
ہر گھڑی تیرے تصور سے منزہ سوچیں
مجھ پہ کھلتا نہ کبھی بابِ فسونِ معنی
— Shafiq Ahmed Khan\
روشنی خواب ہے تعبیر ترے دم سے ہے
تیرا کردار ہے انسان کی عظمت کا امیں
یہ جہاں ایک خرابے کے سوا کچھ بھی نہیں
ہر گھڑی تیرے تصور سے منزہ سوچیں
مجھ پہ کھلتا نہ کبھی بابِ فسونِ معنی
— Shafiq Ahmed Khan\
مژدۂ رحمت حق ہم کو سنانے والے
جتنے اللہ نے بھیجے ہیں نبی دنیا میں
مجھ سے ناشاد کو پہنچا دے دَرِ احمد تک
دلِ ویرانۂ عاشق کو بھی کیجئے آباد
کوئی پہنچا نہ نبی رتبۂ عالی کو ترے
بعد مردن مجھے دِکھلائیں گے جلوہ اپنا
قبر میں آپ کو دیکھا تو رضاؔ نے یہ کہا
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
جتنا مِرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
خاکِ مَدینہ پر مجھے اللہ موت دے
کیوں جائیں ہم کہیں کہ غنی تم نے کر دیا
جو کچھ تری رضا ہے خدا کی وہی خوشی
گو ہم نمک حرام نکمے غلام ہیں
شانِ کرم کو اچھے برے سے غرض نہیں
منگتا کا ہاتھ اٹھا تو مدینہ ہی کی طرف
اس دَر کی خاک پر مجھے مرنا پسند ہے
کونین دے دیے ہیں تِرے اختیار میں
محشر میں دو جہاں کو خدا کی خوشی کی چاہ
قرآن کھا رہا ہے اسی خاک کی قسم
طیبہ کی خاک ہو کہ حیاتِ اَبد ملے
سنگ ستم کے بعد دُعائے فلاح کی
دِل سے ذرا یہ کہہ دے کہ اُن کا غلام ہوں
طیبہ کے ہوتے خلد بریں کیا کروں حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
حالِ دل کس کو سنائیں آپؐ کے ہوتے ہوۓ
میں غلامِ مصطفیٰ ہوں یہ میری پہچان ہے
اپنا جینا اپنا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے
کہہ رہا ہے آپؐ کا رب انت فہم آپؐ سے
سامنے ہے اے علی کے لال اسوہ آپکا
یہ تو ہو سکتا نہیں یہ بات ممکن ہی نہیں
کون ہے الطاف اپنا حالِ دل جس سے کہے
— Altaf Hussain Hali\
ہنر کے چاند ہسِ آفتاب روشن ہیں
بتارہے ہیں مہ و مہر و کہکشاں و نجوم
حرا کے غار سے پھوٹی جو روشنی کی کرن
یہ کس کی چشمِ کرم کی ہے وسعتیں جس میں
وہ ایک نور کہ جس کی تجلیوں سے شکیلؔ
— Shakeel Akhtar\
چل چل چل مدینے جلدی چل
ہر وقت یہی ہر پل
باغ خلد بریں سے پیاری
نور کی بارش ہر دم ہر سو
پائیں گے ہر ایک قدم پر
ان کے در پہ حاضر ہونے
کیسا ہی بیمار ہو کوئی
پانا ہے جو تجھ کو شفا تو
لندن پیرس امریکہ کی
دل سے پکارے گا جو ان کو
طیبہ کے دن رات منور
آپؐ کے در پہ جاں نکلے
— Unknown
عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسول اللہ ﷺ کی
قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے
وہ جہنم میں گیا جو اُن سے مُسٗتَغٗنِیٗ ہوا
سورج الٹے پاؤں پلٹے چاند اشارے سے ہو چاک
تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب منکر دور ہو
اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ رسول اللہ
اے رضاؔ خود صاحب قرآں ہے مداح حضور
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
ملکِ خاصِ کِبریا ہو
کوئی کیا جانے کہ کیا ہو
کَنزِ مَکتومِ اَزل میں
سب سے اوّل سب سے آخر
تھے وسیلے سب نبی تم
پاک کرنے کو وُضو تھے
سب بِشارَت کی اذاں تھے
سب تمہاری ہی خبر تھے
قُربِ حق کی منزلیں تھے
قبلِ ذکر اِضمار کیا جب
طُورِ موسیٰ چَرخِ عیسیٰ
سب جِہَت کے دائرے میں
سب مکاں تم لامکاں میں
سب تمہارے در کے رستے
سب تمہارے آگے شافِع
سب کی ہے تم تک رسائی
وہ کَلَس رَوضے کا چمکا
وہ درِ دولت پہ آئے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
مجھ کو دکھا دو جلوہ آقا ﷺ مدینے والے
فرقت کا غم مٹا دو روضہ پہ اب بلالو
میری یہ التجا ہے جب وقت ہو نزع کا
طوفانِ معصیت کو آنے لگا پسینہ
کشتی میری بھنور میں سرکار ﷺ آگئی ہے
حق کی قسم وہ جنت پاۓ گا حشر کےدن
— Unknown
ماہِ ربیع الاول آیا
وقت مبارک رات سہانی
پیر کا دن تاریخ ہے بارہ
آج کی رات بارات رچی ہے
گھر میں حوریں درپہ مَلک ہیں
ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا
لو وہ اٹھی گردِ سواری
تم بھی اٹھو اب وقت ادب ہے
تخت ہے ان کا تاج ہے ان کا
اونچے اونچے یہاں جھکتے ہیں
کعبے کی زینت ان کے دم سے
کعبہ ہی کیا سارے جہاں میں
آمنہ بی کو لال مبارک
تم کو خلیلُ اللہ مبارک
در پہ ہیں حاضر اپنے پراۓ
چشم کرم لِلّٰہ اِدھر ہو
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\