پروردگار ذکرِ محمدؐ نصیب کر
مینارِ مصطفیٰؐ کی تجلی کا واسطہ
پھوٹے جہاں سے امن و محبت کے زمزمے
ضوبار ہوں جہاں میں محبت کے قمقمے
دربارِ مصطفیٰؐ میں ہے اتنی سی التجا
پیشانیِ حضورِ جہاں سجدہ ریز تھی
اتنی ہے تیز دھوپ جھلسنے لگا بدن
— Sheda Chishti\
پروردگار ذکرِ محمدؐ نصیب کر
مینارِ مصطفیٰؐ کی تجلی کا واسطہ
پھوٹے جہاں سے امن و محبت کے زمزمے
ضوبار ہوں جہاں میں محبت کے قمقمے
دربارِ مصطفیٰؐ میں ہے اتنی سی التجا
پیشانیِ حضورِ جہاں سجدہ ریز تھی
اتنی ہے تیز دھوپ جھلسنے لگا بدن
— Sheda Chishti\
خدا ہی جانے کس انداز کس ادا سے ملے
کبھی جو حضرتِ جبرائیل مصطفی سے ملے
مجھے تو انکے مقدر پہ رشک آتا ہے
صبا جی لائی مدینے سے انکی بوئے بدن
جمال حق کا ہے آئینہ ذاتِ پاکِ نبی
کرم رہی ہے جو انکے کرم کا مظہر ہو
— Unknown
مصطفٰی خیرُالْوَرٰے ہو
اپنے اچھوں کا تَصَدُّق
کس کے پھر ہو کر رہیں ہم
بَد ہنسیں تم اُن کی خاطر
بد کریں ہر دم برائی
ہم وہی ناشُسْتَہ رُو ہیں
ہم وہی شایانِ رَد ہیں
ہم وہی بے شرم و بد ہیں
ہم وہی نَنگِ جَفا ہیں
ہم وہی قابل سزا کے
چَرخ بدلے دَہر بدلے
اب ہمیں ہوں سَہْو حاشا
عمر بھر تو یاد رکھا
وقتِ پیدایِش نہ بھولے
یہ بھی مولیٰ عرض کر دوں
وہ ہو جو تم پر گِراں ہے
وہ ہو جس کا نام لیتے
وہ ہو جس کے رَد کی خاطر
مر مٹیں برباد بندے
شاد ہو اِبلیس مَلْعُوں
تم کو ہو وَ اللہ تم کو
تم کو غم سے حق بچائے
تم سے غم کو کیا تعلق
حق درُودیں تم پہ بھیجے
وہ عطا دے تم عطا لو
بر تو اُو پاشَدْ تو بر ما
کیوں رضاؔ مشکل سے ڈریئے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
یا نبی ﷺ بس مدینے کا غم چاہیے
میرا سینہ مدینہ بنا دیجۓ
بس مدینے کی یادوں میں کھویا رہوں
بس ترے ﷺ غم میں ہر دم میں روتا رہوں
تاج شاہی نہ دو بادشاہی نہ دو
میرے جینے کا سامان ہے بس یہی
آتش شوق ہر دم بھڑکتی رہے
جاں بلب کے سرہانے چلے آیۓ
تیرے قدموں میں موت تیرے قدموں میں موت
دے دو آقا ﷺ بقیع مبارک مجھے
سارے دیوانے آقا ﷺ مدینے چلیں
تیرا سرکار ﷺ ہوں گرچہ بدکارہوں
چھوڑیں عادات بد بھائیو ! موت کا
جو بھی عطار کا پڑھ لے آقا ﷺ کلام
گر وہ فرمائیں عطار کیا چاہیے؟
— Unknown
وہ نورِ آسمانی جب کیا اس نے زمینی
انھی سے سلسلہ قائم ہوا جود و سخا کا
منور ہیں انھی کے حسن سے سارے زمانے
مُعطَر ہوگئی اُن سے فضاۓ زندگانی
خوشا وہ بخت جو چمکے سراجِ آگہی سے
مگر شرمندگی سے آنکھ اٹھتی ہی نہیں ہے
عطا ہو اک نظر یا جس قدر بھی آپؐ چاہیں
— Dr Zia Ul Hassan\
پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
جان و دل رکھ کے میں طیبہ میں امانت کی طرح
سایہٗ گنبد خضریٰ میں ادا کرکے نماز
دل بھی میرا ہے وہیں جاں بھی میری ہے وہیں
جس نے چومے ہیں قدم سرور عالم ﷺ کے
— Unknown
غریباں تے یتیماں دا سہارا یا رسولؐ اللہ
بڑی حسرت اے ویکھن دی بڑا چاہ اے زیارت دا
تڑپدے نے جو ویکھن لئ ایہناں تے وی کرم ہووے
میری کشتی گناہواں دے سمندر وچ نا ڈوب جاوے
فکر مکیا حشر دا وہ جدوں دا میں ایہہ سُنیا اے
کرے عرضاں ظہیر عاجز بھرم رکھنا حشر اندر
— Unknown
جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
جلوہ فرما ہو جو میرا آفتاب
عارضِ پرنور کا صاف آئینہ
یہ تجلی گاہِ ذاتِ بحت ہے
دیکھنے والوں کے دل ٹھنڈے کیے
ہے شبِ دیجورِ طیبہ نور سے
بخت چمکا دے اگر شانِ جمال
نور کے سانچے میں ڈھالا ہے تجھے
ناخدائی سے نکالا آپ نے
ذَرَّہ کی تابش ہے ان کی راہ میں
گرمیوں پر ہے وہ حسن بے زَوال
ان کے دَر کے ذَرَّہ سے کہتا ہے مہر
شامِ طیبہ کی تجلی دیکھ کر
رُوئے مولیٰ سے اگر اُٹھتا نقاب
کہہ رہی ہے صبحِ مولد کی ضیا
وہ اگر دیں نکہت و طلعت کی بھیک
تلوے اور تلوے کے جلوے
اے خدا ہم ذَرّوں کے بھی دن پھریں
ان کے ذَرَّہ کے نہ سر چڑھ حشر میں
جس سے گزرے اے حسنؔ وہ مہر حسن
— Hassan Raza Khan Barelvi\
یہ ہے دیارِ پیمبر یہیں ٹھہر جائیں
وراۓ حدِ گماں ہے تجلیوں کا سماں
بلا کی دھوپ ہے دنیا کے ریگ زاروں میں
عجب کشش ہے تری نور خیز گلیوں میں
مسافرانِ رہِ عشق یہ مدینہ ہے
ضریحِ پاک سے طالبؔ صدا یہ آتی ہے
— Talib Ansari\
مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دِل سے
واللہ وہ سُن لیں گے فریاد کو پہنچیں گے
بچھڑی ہے گلی کیسی بگڑی ہے بنی کیسی
کیا اس کو گِرائے دہر جس پَر تُو نظر رکھے
بہکا ہے کہاں مجنوں لے ڈالی بنوں کی خاک
سونے کو تپائیں جب کچھ مِیل ہو یا کچھ مَیل
آتا ہے درِ والا یُوں ذوقِ طواف آنا
اے ابرِ کرم فریاد فریاد جَلا ڈالا
دریا ہے چڑھا تیرا کتنی ہی اڑائیں خاک
کیا جانیں یِم غم میں دِل ڈُوب گیا کیسا
کرتا تو ہے یاد اُن کی غفلت کو ذرا روکے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\