تاروں کی انجمن میں یہ بات ہو رہی ہے
ذرے یہ کہہ رہے ہیں، اس نور کے قدم سے
پھر کیوں کہوں پریشاں ہو کر بقول شخصے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
تاروں کی انجمن میں یہ بات ہو رہی ہے
ذرے یہ کہہ رہے ہیں، اس نور کے قدم سے
پھر کیوں کہوں پریشاں ہو کر بقول شخصے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
صاحبِ عزّت و جلال آقا
ہر صِفت تیری لازوال آقا
میں ہوں بدخُلق و بدخِصال آقا
رنج و غم نے کیا نڈھال آقا
میں ہوں بے روپ بے جمال آقا
تری رحمت ہی سے ملی عزّت
قتل کرنے عَدو چڑھ آیا تھا
تیرے ہوتے ہوئے مِرا اب کیوں
ٹھوکریں در بدر کی کیوں کھاؤں
حق کے پیارے ہیں آپ اور پیارا
سب حَسینوں سے بالیقیں بڑھ کر
تُم نے ہی سر بُلندیاں بخشیں
بد خصائل نکال کر سروَر
اپنے غم میں رُلائیے ہر دم
میرا سِینہ مدینہ بن جائے
آپ نے صرف اپنی رحمت سے
گندے گندے وساوِس آتے ہیں
یادِ طیبہ میں گُم رہوں ہردم
اہلِ اسلام غالِب آئیں اور
کاش! اس سال میں مدینے میں
حُسنِ اَخلاق اور نرمی دو
سبز گنبد کے سائے میں میرا
لڑ کھڑائے مِرے قدم جب بھی
اِس مَرَض سے بھی تم شِفا دے دو
لب کُھلیں گُل جَھڑیں فَضا مہکے
کاش! عطارؔ کا ہو طیبہ میں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
شہنشاہِ دو عالم کا کرم ہے
یہیں رہتے ہیں وہ جانِ بہاراں
بھلا دعوے ہیں ان سے ہمسری کے
دلِ بیتاب کو بہلائوں کیسے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
تیری آمد ہے موت آئی ہے
کیوں وطن اپنا چھوڑ آئی ہے
سیکڑوں آفتوں میں پھنسنے کو
اُن کے جلوے ہیں میری آنکھوں میں
تم کو دیکھا تو دَم میں دَم آیا
مر رہا تھا تم آئے جی اُٹھا
اب تو آؤ کہ دم لبوں پر ہے
آئیے وقت ہے یہ آنے کا
زندگی میں نے پائی مر مر کے
زندگی کیا تھی جس میں موت آئی
موت کا اب نہیں ذرا کھٹکا
مرتے ہی زندگی ملی مجھ کو
حسرتِ دِیدِ یار میں ہم نے
جو حسیں دیکھا مر مٹا اس پر
چین کی نیند آج سویا ہوں
شامتوں نے تمہاری گھیرا ہے
ذَبح کر ڈالا تو نے او ظالم
طاعتِ حق کا نام سنتے ہی
معصیت زہر ہے مگر اوندھے
کیا بگاڑا تھا تیرا کیوں بگڑا
اچھے جو کام کرنے ہیں کرلو
نوریؔ ہرگز نہیں ہے تو ناری
واہ کیا بات آپ کی نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
اک تمنا ہے، کہ وہ خوابِ تمنا دیکھوں
پیش منظر تراؐ در ہو تو مری آنکھ لگے
بامِ خواہش پہ کسی اور کو کیا دیکھنا ہے!
دیکھنے کو کوئی حد ہو، تو میں بتلاؤں بھی
تیراؐ پیکر مری آنکھوں میں مجسم ہو جاۓ
اُن زمینوں پہ بکھر جاؤں میں ذروں کی طرح
— Hassan Abbas Raza\
مست مئے الست ہے وہ بادشاہِ وقت ہے
ان کی گدائی کے طفیل ہم کو ملی سکندری
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
جمالِ حق سے ہویدا ہوا جمال انؐ کا
ہرایک حال میں خوش حال ہے وہ دل جس میں
مکالمہ ہوا پہلا بھی لاجواب مگر
عزیز تھی اسے اپنے حبیبؐ کی مرضی
ہمیں تو ہیں وہ گنہ گار امتی خاورؔ
— Khawar Ejaz\
لب پہ جب نعت آگئی ہے
آپؐ کی گفتگو میں آکر
خوشبوۓ خاکِ پاۓ اقدس
خلد کی راہ، دو جہاں پر
قصویٰ کا بھی نصیب جاگا
آگئی بادِ نو بہاری
رشک سے تھامنا پڑا دل
آئینہء دہر میں فروزاں
قافلے جا چکے مدینے
— Khursheed Rabani\
نہاں جس دل میں سرکارِ دو عالم کی محبت ہے
خلائق پر ہوئی روشن ازل سے یہ حقیقت ہے
اٹھے شورِ مبارکباد ان سے جا ملا اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے
قدم بن جائے میرا سر مدینہ آنے والا ہے
الٰہی میں طلب گارِ فنا ہوں خاک طیبہ میں
مدینہ کو چلا میں بے نیازِ رہبر منزل
مجھے کھینچے لئے جاتا ہے شوقِ کوچۂ جاناں
وہ چمکا گنبد خضریٰ وہ شہر پر ضیاء آیا
جہاں سے بے خبر ہو کر چلو خلد مدینہ میں
ذرا اے مرکب عمر رواں چل برق کی صورت
مدینہ آگیا اب دیر کیا ہے صرف اتنی سی
فلک شاید زمیں پر رہ گیا خاکِ گزر بن کر
محمد کے گدا کچھ فرش والے ہی نہیں دیکھو
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\