تیری آمد ہے موت آئی ہے
کیوں وطن اپنا چھوڑ آئی ہے
سیکڑوں آفتوں میں پھنسنے کو
اُن کے جلوے ہیں میری آنکھوں میں
تم کو دیکھا تو دَم میں دَم آیا
مر رہا تھا تم آئے جی اُٹھا
اب تو آؤ کہ دم لبوں پر ہے
آئیے وقت ہے یہ آنے کا
زندگی میں نے پائی مر مر کے
زندگی کیا تھی جس میں موت آئی
موت کا اب نہیں ذرا کھٹکا
مرتے ہی زندگی ملی مجھ کو
حسرتِ دِیدِ یار میں ہم نے
جو حسیں دیکھا مر مٹا اس پر
چین کی نیند آج سویا ہوں
شامتوں نے تمہاری گھیرا ہے
ذَبح کر ڈالا تو نے او ظالم
طاعتِ حق کا نام سنتے ہی
معصیت زہر ہے مگر اوندھے
کیا بگاڑا تھا تیرا کیوں بگڑا
اچھے جو کام کرنے ہیں کرلو
نوریؔ ہرگز نہیں ہے تو ناری
واہ کیا بات آپ کی نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
