پادشاہاؐ ترے دروازے پہ آیا ہے فقیر
دیکھی دیکھی ہوئی لگتی ہے مدینے کی فضا
اہلِ منصب کو نہیں بار یہاں پر لیکن
اب کوئی تازہ جہاں خود اسے ارزانی کر
اس کو اک خواب کی خیرت عطا ہوجاۓ
اک نگہ جب سے عنایت کی ہوئی ہے اس پر
— Khursheed Rizvi\
پادشاہاؐ ترے دروازے پہ آیا ہے فقیر
دیکھی دیکھی ہوئی لگتی ہے مدینے کی فضا
اہلِ منصب کو نہیں بار یہاں پر لیکن
اب کوئی تازہ جہاں خود اسے ارزانی کر
اس کو اک خواب کی خیرت عطا ہوجاۓ
اک نگہ جب سے عنایت کی ہوئی ہے اس پر
— Khursheed Rizvi\
شکریہ آپ کا سلطان مدینے والے
مجھ کمینے کو مدینے میں بُلایا تم نے
زائرِ قَبرِ مُنوَّر کی شَفاعت ہوگی
میں بھی تو زائرِ رَوضہ ہوں رسولِ عَرَبی!
دولتِ عشق سے آقا مِری جھولی بھر دو
آپ کے عشق میں اے کاش کہ روتے روتے
تیرے در پر تو عَدو کو بھی اَماں ملتی ہے
اپنے قدموں سے خدارا نہ جُداکیجےگا
آپ بھوکے رہیں اور پیٹ پہ پتّھر باندھیں
حَشر میں تم مِرے عَیبوں کو چُھپائے رکھنا
میں مدینے کی گلی کا کوئی کُتّا ہوتا
مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنالو آقا
اِک جھلک چِہرۂ انور کی دکھا دو اَب تو
اِس گنہگار کو دامن میں چھپا لو آقا!
کاش! عطارؔ ہو آزاد غمِ دنیا سے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
پیام لے کے جو آئی صبا مَدینے سے
سنو تو غور سے آئی صدا مَدینے سے
ملے ہمارے بھی دِل کو جلا مَدینے سے
تمہاری ایک جھلک نے کیا اُسے دلکش
تمام شاہ و گدا پل رہے ہیں اس دَر سے
جو آیا لے کے گیا کون لوٹا خالی ہاتھ
بتادے کوئی کسی اور سے بھی کچھ پایا
وہ آیا خُلد میں جو آگیا مَدینے میں
نہ چین پائے گا یہ غمزدہ کسی صورت
لگاؤ دل کو نہ دنیا میں ہر کسی شے سے
گدا کی راہ جہاں دیکھیں پھر نواکیوں ہو
چمن کے پھول کھلے مُردہ دِل بھی جی اُٹھے
کرے گی مُردوں کو زندہ یہ تِشْنوں کو سیراب
مَدینہ چشمۂ آبِ حیات ہے یارو
فضائے خلد کے قرباں مگر وہ بات کہاں
ہمارے دل کو تو بھایا ہے طیبہ ہی زاہد
چلے جو طیبہ سے مسلم تو خلد میں پہنچے
تم ایک آن میں آئے گئے تمہارے لیے
تمہارے قدموں پہ سر صدقے جاں فدا ہوجائے
ترے حبیب کا پیارا چمن کیا برباد
ترے نصیب کا نوریؔ ملے گا تجھ کو بھی
— Mustafa Raza Khan Noori\
میری خلوت میں مزے انجمن آرائی کے
سر ہے سجدے میں خیال رُخ جاناں دل میں
سجدہ بے الفت سرکار عبث ہے نجدی
دشتِ طیبہ میں گمادے مجھے اے جوشِ جنوں
میں تو ہوں بلبل بستان مدینہ اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
شاہ تم نے مدینہ اپنایا، واہ! کیا بات ہے مدینے کی
مجرِموں کو بھی طیبہ بلوایا،واہ! کیا بات ہے مدینے کی
ہر طر ف رحمتوں کا ہے سایہ، واہ!کیا بات ہے مدینے کی
کوئی دیوانہ جب مدینے میں ،آیا دِل اُس کا جُھوماسینے میں
اللہ اللہ گنبدِ خَضرا، اور محراب و منبرِ آقا
خوب دنیاکے ہیں حسیں باغات اورپھولوں کے حُسن کی کیا بات
باغِ طیبہ کا حُسن کیا کہنا،جامۂ نُور جیسے ہو پہنا
خوب صورت وہاں کے سب کُہسار اور ہیں دھول کے حسیں اَنبار
حسنِ پیرِس پہ مرنے والے کیا! دشتِ طیبہ کا حُسن بھی دیکھا؟
جس نے حُسنِ عقیدت اپنائی،اس نے امراض سے شِفا پائی
جو مصیبت کا آگیا مارا،دُور غم اُس کا ہو گیا سارا
جو سُوالی مدینے آیا ہے،جھولیاں بھر کے اپنی لایاہے
میرے آقا مدینے جب آئے،بچیوں نے ترانے تھے گائے
قلبِ عاشق نے کیف پایا ہے،روح کو بھی سُرور آیا ہے
شوقِ طیبہ میں دل سُلگتا ہے، ہم کو اچھا مدینہ لگتا ہے
زائرِروضہ کوشَفاعت کی، یانبی آپ نے بِشارت دی
کب تلک در بد ر پھرے آقا! اپنے کُوچے میں موت دے آقا!
خود کو جو عشق میں رُلاتا ہے، لاجَرَم وہ سُکون پاتا ہے
ہرطرف بھینی بھینی ہے خوشبو، سوز ہی سوز ہرجگہ ہر سُو
بس مدینہ مدینہ وِردِ لب، کاش!اکثر رہے مرے یارب
اپنے عطّارؔ کو شہِ عالَم، دے دو اپنی محبت اپنا غم
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
پڑھوں وہ مَطلعِ نوری ثنائے مہرِ اَنور کا
سرِعرشِ عُلا پہنچا قدم جب میرے سروَر کا
بنا عرشِ بریں مَسنَد کفِ پائے منور کا
دوعالم صدقہ پاتے ہیں مرے سرکار کے دَر کا
بڑے دَربار میں پہنچایا مجھ کو میری قسمت نے
ہے خشک و تر پہ قبضہ جس کا وہ شاہِ جہاں یہ ہے
مٹے ظلمت جہاں کی نور کا تڑکا ہو عالم میں
ضیا بخشی تری سرکار کی عالم پہ روشن ہے
نگاہِ مہر سے اپنی بنایا مہر ذَرّوں کو
طبق پر آسماں کے لکھتا میں نعتِ شہِ والا
مقابل ان کے ذَرَّہ کے ذرا سا منہ نکل آیا
جمالِ حق نما دیکھیں عیاں نورِ خدا پائیں
نہ سایہ رُوح کا ہرگز نہ سایہ نور کا ہرگز
وہ آئینہ اگر دیکھیں تو اپنے آپ کو دیکھیں
محالِ عقل ہے ترا مماثل اے مرے سروَر
خدا شاہد رضا کا آپ کی طالب خدا ہوگا
دَبا جاتا پجا جاتا ہوں میں آقا دُہائی ہے
بجھے گی شربتِ دِیدار ہی سے تشنگی اپنی
زباں پر جم گئے کانٹے ہے سارا حلق خشک اپنا
کمی کچھ بھی خزانے میں تمہارے ہو نہیں سکتی
جو آب و تابِ دَندانِ منور دیکھ لوں نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
ہے دعا میری یہی ہر آن، یا خیرالوریٰ
آپؐ کی آمد بناۓ انقلابِ نو بہ نو
آدمی سمجھا مری تخلیق کا مقصد ہے کیا
جاگزیں ہر دل میں ہو ایسے محبت آپؐ کی
گھر وہ کیسا تھا کہ جس کے مُلک جاروب کش
رابعہؔ، لکھتی رہوں میں حمد و نعت و منقبت
— Rabia Basri\
شَدائد نَزع کے کیسے سَہوں گا یارسولَ اللہ
مجھے مرنا ہے آقا گنبدِ خَضرا کے سا ئے میں
نہ چھوڑے جُرم چھٹتے ہیں نہ مارے نفس مرتا ہے
سدا میٹھی نظر رکھنا اگر تم ہو گئے ناراض
اندھیرا کاٹ کھاتا ہے اکیلے خوف آتا ہے
نکیرَین امتِحاں لینے کو جب آئینگے تُربت میں
برائے نام دردِ سر سہا جاتا نہیں مجھ سے
یہاں چِیونٹی بھی تڑپا دے مجھے تو قبر کے اندر
یہاں معمولی گرمی بھی سہی جا تی نہیں مجھ سے
زمیں تَپتی ہوئی خورشید بھی شعلہ فِشاں ہوگا
سرِ محشر بلا کی دھوپ ہے آقا کرم کر دو
گناہوں کے کُھلے دفتر کھڑا ہوں آہ ! مِیزاں پر
ہے سر پر بارِعِصیاں پُل صِراط اب پار ہو کیسے!
بروزِ حشر گر چشمِ کرم مجھ پر نہ کی تم نے
میں مجرِم ہوں جہنَّم میں اگر پھینکا گیا مجھ کو
لپک کر آگ کے شُعلے لپٹتے ہوں گے بربادی
اندھیری آگ ہوگی روشنی بالکل نہیں ہوگی
وہاں کانوں میں ،آنکھوں میں ،دَہَن میں ،پیٹ میں بھی آگ!
جِبالِ نار ہوں گے وادِیاں بھی نار کی ہوں گی
فِرِشتے ڈانٹتے ہوں گے ہَتھَوڑے ما رتے ہوں گے
وہاں سانپ اور بچّھو بھی مسلسل ڈَس رہے ہونگے
غِذا دوزخ کی تُھوہر اور اُوپر کَھولتا پانی
نہ مانگے موت آئے گی نہ بیہوشی ہی چھائیگی
جو تم چا ہو گے تو ہونگی مِر ی سب مُشکِلیں آساں
تمہارا ہوں غُلام اور ہے غلامی پر مجھے تو ناز
زَباں پر ہوگا اُس دم یارسولَ اللہ کا نعرہ
غمِ اُمّت میں روتا دیکھ کر تم کو سرِ محشر
سُنو یامت سُنو میں تو پکارے جاؤں گا تم کو
کرم فرما کہ ہو عطارؔ بھی اِس قَول کا مِصداق
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے
نہ بات مجھ سے گل خلد کی کر اے زاہد
یہ بات مجھ سے مرے دل کی کہہ گیا زاہد
یہ کس کے دم سے ملی جہاں کو تابانی
فدائیوں کو یہ ضد کیا کہ پردہ اٹھ جائے
جو ہیں مریض محبت یہاں چلے آئیں
کنارا ہو گیا پیدا اسی جگہ فوراً
نہ فیض اس محبت میں تو نے کچھ پایا
پس ممات نہ بدنام ہو ترا اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
رہنماۓ دینِ فطرت آپؐ ہیں
ختم ہے ساری بڑائی آپؐ پر
پہلے تو حیوانیت کا راج تھا
آپؐ کی سیرت ہے سب کی رہنما
نعت لکھ کر مطمئن راحتؔ ہے یوں
— Rahat Nazeer Rahat\