نہاں جس دل میں سرکارِ دو عالم کی محبت ہے
خلائق پر ہوئی روشن ازل سے یہ حقیقت ہے
اٹھے شورِ مبارکباد ان سے جا ملا اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
نہاں جس دل میں سرکارِ دو عالم کی محبت ہے
خلائق پر ہوئی روشن ازل سے یہ حقیقت ہے
اٹھے شورِ مبارکباد ان سے جا ملا اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے
قدم بن جائے میرا سر مدینہ آنے والا ہے
الٰہی میں طلب گارِ فنا ہوں خاک طیبہ میں
مدینہ کو چلا میں بے نیازِ رہبر منزل
مجھے کھینچے لئے جاتا ہے شوقِ کوچۂ جاناں
وہ چمکا گنبد خضریٰ وہ شہر پر ضیاء آیا
جہاں سے بے خبر ہو کر چلو خلد مدینہ میں
ذرا اے مرکب عمر رواں چل برق کی صورت
مدینہ آگیا اب دیر کیا ہے صرف اتنی سی
فلک شاید زمیں پر رہ گیا خاکِ گزر بن کر
محمد کے گدا کچھ فرش والے ہی نہیں دیکھو
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
میری خلوت میں مزے انجمن آرائی کے
سر ہے سجدے میں خیال رُخ جاناں دل میں
سجدہ بے الفت سرکار عبث ہے نجدی
دشتِ طیبہ میں گمادے مجھے اے جوشِ جنوں
میں تو ہوں بلبل بستان مدینہ اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے
نہ بات مجھ سے گل خلد کی کر اے زاہد
یہ بات مجھ سے مرے دل کی کہہ گیا زاہد
یہ کس کے دم سے ملی جہاں کو تابانی
فدائیوں کو یہ ضد کیا کہ پردہ اٹھ جائے
جو ہیں مریض محبت یہاں چلے آئیں
کنارا ہو گیا پیدا اسی جگہ فوراً
نہ فیض اس محبت میں تو نے کچھ پایا
پس ممات نہ بدنام ہو ترا اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
دور اے دل رہیے مدینے سے
ان سے میرا سلام کہہ دینا
ہر گل گلستاں معطر ہے
ذکر سرکار ا کرتے ہیں مومن
پیجئے چشم ناز سے ان کی
اس تجلی کے سامنے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
گل زارِ حسن کا گل رنگین ادا ہے
توصیف میں اس کی جو کہوں اس سے سوا ہے
نام اس کا بہت خوب ہے خود اس کی ثنا ہے
رحمانی ضیاؤں کی رِدا میں وہ چھپا ہے
اب عقل کی پرواز اسے چھو نہیں سکتی
سدرہ سے کوئی پوچھے ذرا اس کی بلندی
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
اس طرف بھی اک نظر مہر درخشانِ جمال
تم نے اچھوں پہ کیا ہے خوب فیضانِ جمال
تیری جاں بخشی کے صدقے اے مسیحائے زماں
فرش آنکھوں کا بچھائو رہ گزر میں عاشقو
مرکے مٹی میں ملے وہ نجدیو بالکل غلط
گرمیٔ محشر گنہگاروہے بس کچھ دیر کی
کرکے دعویٰ ہمسری کا کیسے منہ کے بل گرا
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
یَا مُجِیْبُ یا مُجَابُ
یَا رَسولَ اللّٰہِ حقّاً
أنْتَ مَأتَاھَا وَحیدًا
بِالْھُدٰی وَالْحِقِّ وافٰی
خِیْرَۃٌ لِلّٰہِ فِیْنَا
أحْمَدُ الْمُخَتَارُ حِبِّیْ
شَعْرُہٗ مِثْلُ السَّحَابِ
صَدْرُہٗ الْمِشْکَاۃُ فِیْہَا
جُوْدُہٗ فَاقَ الْجَوَادِیْ
قَلُّہٗ مَالَا یُحَدُّ
فَضْلُہٗ دَوْمًا مَزِیْدُ
وَجَنَابُہُ الْمُعَلّٰی
وَمَزَارُہٗ أمَانٌ
أخْتَرُ الْجَانِیْ أتَاکَ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
ألا یا خمینی یا فاجر
أفیضوا بھیجاء أو أقصروا
أبی أن یَّھون العراق الأبی
وانّ العراق بعلیاءہ
لیھنا العراق الحبیب العلٰی
یظلّ العراق بحرزالِالٰہ
ویردی الخمینی وأحزابہ
ویکفی العراقَ قتالَ العدی
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
اے صبا لے جا مدینے کو پیام
اے مکین گنبد خضریٰ سلام
اب مدینے میں مجھے بلوائیے
بلبل بے پر پہ ہو جائے کرم
ہند کا جنگل مجھے بھاتا نہیں
زندگی کے ہیں مدینے میں مزے
زندگی کے ہیں مدینے میں مزے
خلد کی خاطر مدینہ چھوڑ دوں
خلد کے طالب سے کہہ دوں بے گماں
مجھ سے پہلے میرا دل حاضر ہوا
کتنی پیاری ہے مدینے کی چمک
کتنی بھینی ہے مدینہ کی مہک
یا رسول اللہ از رحمت نگر
بس انوکھی ہے مدینہ کی بہار
کتنی روشن ہے یہاں ہر ایک شب
کیا مدینہ کو ضرورت چاند کی
نور والے صاحب معراج ہیں
اے خوشا بخت رسائے اخترؔت
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\