آپ آئے تو زمانے کو اجالا کردیا
الفت آقاؐ میں ہم نے دل دوانہ کردیا
پوچھتا کوئی نہ تھا مجھ بے ہنر کو جب شہا
مکہ سے طیبہ کی ہجرت شان و شوکت لاجواب
پیاسے جتنے بدر کے میدان میں اصحاب تھے
یوں تو دنیا میں حبیبی انبیاء آۓ بہت
— Sarfaraz Habibi\
آپ آئے تو زمانے کو اجالا کردیا
الفت آقاؐ میں ہم نے دل دوانہ کردیا
پوچھتا کوئی نہ تھا مجھ بے ہنر کو جب شہا
مکہ سے طیبہ کی ہجرت شان و شوکت لاجواب
پیاسے جتنے بدر کے میدان میں اصحاب تھے
یوں تو دنیا میں حبیبی انبیاء آۓ بہت
— Sarfaraz Habibi\
اج سک متراں دی ودھیری اے
آلوں لوں وچ شوق چنگیری اے
الطیف سری من طلعتہ
فسکرت ھنا من نظرتہ
مکھ چند بدر شعشانی اے
کالی زلف تے اکھ مستانی اے
دو ابرو قوس مثال دسن
لباں سرخ آکھاں کہ لعل یمن
اس صورت نوں میں جان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں
دسے صورت راہ بے صورت دا
ایہا صورت شالا پیش نظر
وچ قبر تے پل تھیں جد ہوسی گذر
یعطیک ربک داس تساں
لج پال کریسی پاس اساں
لاہو مکھ تو مخطط برد یمن
اوہا مٹھیاں گالیں الاو مٹھن
حجرے توں مسجد آو ڈھولن
دو جگ اکھیاں راہ دا فرش کرن
انہاں سکدیاں تے کرلاندیاں تے
انہاں بردیاں مفت وکاندیاں تے
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
— Peer Mehar Ali Shah\
چھوڑ کر تیرا دامنِ رحمت
کھو دی اپنی قدر و قیمت
حد سے گزری ہے نادانی
گھیرے ہوئے ہے نفرت و ذلت
بن گے سیم و زر کے بندے
چھِن گئی ہم سئ فقر کی دولت
دکیھیں ہماری آنکھ مچولی
بھول گئے ہم درسِ اخوت
علم و عمل کا رشتہ ٹوٹا
فرقہ فرقہ ہوگئی امت
ساری دنیا میں ٹھکرائے ہوئے
آقاؐ کھول دو ہم پہ بابِ رحمت
— Unknown
اَب آدمی کچھ اور ہَماری نَظر میں ہے
اَپنا ہی جَلوہ ہے جو ہَماری نَظر میں ہے
وہ گَنجِ حُسن ہے دِلِ وِیراں میں جَلوہ گَر
بَس اِک فَروغِ نَقشِ کَفِ پا کے فیض سے
اللہ خیر میرے دِلِ بیقرار کی
خود بینیوں کی آنکھ مِلی چشمِ شوق کو
بَننے سے پہلے ساغرِ مَے ٹُوٹ جاتے ہیں
غُربت میں بھی خیالِ وَطن ساتھ ساتھ ہے
اے نُوح ! اپنی کشتئ عالم سے ہوشیار
اِک مِیہماں سے دونوں گھر آباد ہیں مِرے
حیران ہُوں کہ سَجدہ کَروں تو کِدھر کَروں
ہَنستے ہیں میرے گِریۂ بے اِختیار پر
بیدم یہ جُستجو بھی عَجب ہے عَجب تَلاش
— Bedam Shah Warsi\
بے حِسی ، راہ نُما ٹھہری ہے
چھِن گئیں مجھ سے مِری روشنیاں
اپنے ہی خُوں میں نہا کر نِکلوں
کِس کی زنجیر ہلاؤں جا کر
بھُول بیٹھا ہُوں خُدا کو شاید
کوئی منزل ہے نہ رستہ میرا
پیاس بڑھتی ہی چلی جاتی ہے
عکسِ اَسلاف سے شِکوہ ہے مجھے
مسجدِ رُوح میں ہوتی ہے اذاں
رحم، اَفلاس پہ میرے ، یارب
— Muzaffar Warsi\
شہنشاہِ دو عالم کا کرم ہے
یہیں رہتے ہیں وہ جانِ بہاراں
بھلا دعوے ہیں ان سے ہمسری کے
دلِ بیتاب کو بہلائوں کیسے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
مست مئے الست ہے وہ بادشاہِ وقت ہے
ان کی گدائی کے طفیل ہم کو ملی سکندری
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
نہاں جس دل میں سرکارِ دو عالم کی محبت ہے
خلائق پر ہوئی روشن ازل سے یہ حقیقت ہے
اٹھے شورِ مبارکباد ان سے جا ملا اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے
قدم بن جائے میرا سر مدینہ آنے والا ہے
الٰہی میں طلب گارِ فنا ہوں خاک طیبہ میں
مدینہ کو چلا میں بے نیازِ رہبر منزل
مجھے کھینچے لئے جاتا ہے شوقِ کوچۂ جاناں
وہ چمکا گنبد خضریٰ وہ شہر پر ضیاء آیا
جہاں سے بے خبر ہو کر چلو خلد مدینہ میں
ذرا اے مرکب عمر رواں چل برق کی صورت
مدینہ آگیا اب دیر کیا ہے صرف اتنی سی
فلک شاید زمیں پر رہ گیا خاکِ گزر بن کر
محمد کے گدا کچھ فرش والے ہی نہیں دیکھو
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
میری خلوت میں مزے انجمن آرائی کے
سر ہے سجدے میں خیال رُخ جاناں دل میں
سجدہ بے الفت سرکار عبث ہے نجدی
دشتِ طیبہ میں گمادے مجھے اے جوشِ جنوں
میں تو ہوں بلبل بستان مدینہ اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\