مورے جی میں ہے کب سے یہ آس
رہوں میں اداس دن رات
بے کل منوا چین نہ پاۓ
چلی آؤں نبی جی ﷺ تورے پاس
اس نگری کا پانی زم زم
دکھی جی کو نہ کر اداس
توری ذات جہاں سے عالی
ہر اک کا تجھے ہے احساس
پلکوں سے وہ جالیاں چوموں
رہوں بن کے وہاں میں توری داسی
— Unknown
مورے جی میں ہے کب سے یہ آس
رہوں میں اداس دن رات
بے کل منوا چین نہ پاۓ
چلی آؤں نبی جی ﷺ تورے پاس
اس نگری کا پانی زم زم
دکھی جی کو نہ کر اداس
توری ذات جہاں سے عالی
ہر اک کا تجھے ہے احساس
پلکوں سے وہ جالیاں چوموں
رہوں بن کے وہاں میں توری داسی
— Unknown
سرکار کے رخ کےجو اجالے نہیں ہوتے
رنگت رخ آقا سے اگر ان کو نہ ملتی
گر بھیک نہ ہم کو درِ سرکار سے ملتی
جو لوگ مناتے نہیں میلاد نبی کا
کعبہ بھی خدا کا وہ سیاہ پوش نہ ہوتا
عابدؔ ہمیں محشر میں وہاں کون بچاتا
— Unknown
چلو دیارِ نبی کی جانب درودلب پہ سجاسجا کر
نہ آپ جیسا سخی ہے کوئی نہ جیسا غنی ہے کوئی
یہی اساس عمل ہے میری اسی سےبگڑی بنی ہے میری
ہے ان کی امت سے پیارکتنا کرم ہے رحمت شعارکتنا
میں وہ بھکاری ہوں جس کی جھولی میں کوئی حسن عمل نہیں ہے
وہ آئینہ ہے رخ محمد کہ جس کا جوہر جمال رب ہے
اگر مقدرنےیاوری کی اگر مدینے گیا میں خالد
— Khalid Mehmood Khalid\
سد لو ہن سرکار مدینے
جے رب سن لیے میریاں عرضاں
آوے اوگن ہار مدینے
رب آکھے میں بخش دیاں
آوے اوگن ہار مدینے
ہر واری مینوں روندیاں چھڈ کے
آوے اوگن ہار مدینے
ہر ویلے قدماں وچ رہندے
آوے اوگن ہار مدینے
جو حب دار سجن سیداں دا
آوے اوگن ہار مدینے
— Unknown
تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک
اگرچہ چھالے ستاروں سے پڑ گئے لاکھوں
سرِ فلک نہ کبھی تابہ آستاں پہنچا
یہ مٹ کے ان کی رَوِش پر ہوا خود اُن کی رَوِش
تمہاری یاد میں گزری تھی جاگتے شب بھر
نہ جاگ اُٹھیں کہیں اہلِ بقیع کچی نیند
یہ اُن کے جلوہ نے کیں گرمیاں شبِ اسرا
مِرے غنی نے جواہر سے بھر دِیا دامن
رہا جو قانعِ یک نانِ سوختہ دن بھَر
تجمل شبِ اسرا ابھی سمٹ نہ چکا
خطابِ حق بھی ہے دربابِ خلق مِنْ اَجَلِکْ
یہ اہلِ بیَت کی چکی سے چال سیکھی ہے
رضاؔ یہ نعتِ نبی نے بُلندیاں بخشیں
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
دیکھی جو فضاۓ کوۓ نبی جنت کا ٹھکانہ بھول گۓ
سرکارِ دوعالم کےدرپرجس وقت پڑی بےتاب نظر
جب پہنچے مواجہہ پران کےاک کیف میں ایسا ڈوب گۓ
اے دوست بتائیں کیا تجھ کو آقا کے نگر کی رعنائی
آقاۓ دوعالم کے درپہ اک ایسا بھی عالم گزرا ہے
ہم پہنچے سلامی کو جس دم دربار رسالت میں عابدؔ
— Unknown
چلے جس ویلے پُرےدی ہوامدینہ ساہنوں یادآوندا
یاداں سوہنے دیاں آن کے جگاؤندیاں جگاؤندیاں
نام مصطفیٰ دا ساڈےمنہ تےراج اےراج اے
اج ساریاں خوشیاں منائیاں نیں منائیاں نیں
سوہنے شہر نوں سواریاں نیں چلیاں چلیاں
راہیا جس ویلے مدینے جاویں توں جاویں توں
اوتھے نیواں نیواں ہو کر جاویں توں جاویں توں
نی ہواۓتینوں کاہدی مجبوری اے مجبوری اے
— Unknown
یا نبی ﷺ صبح و شام کیجۓ گا
دل دھڑکنے کی بھی نہ آۓ صدا
وہاں الفاظ کام آتے نہیں
لمحہ لمحہ کٹے درودوں میں
یا نبی ﷺ صبح و شام کیجۓ گا
— Unknown
اے حاملِ محبوب خدا گنبد خضرا
کہنے کو تو دنیا میں ہرا رنگ ہے لیکن
ہم جیسے کئی درد کے ماروں کے لیئے ہے
جب چاہوں، جہاں چاہوں تجھے دیکھ سکوں میں
ہر کوئی محبت سے تجھے دیکھ رہا ہے
کس آنکھ نے تجھ کو کبھی دیکھا ہے مکمل
ہے روح کی تسکین قرارِ دل غمگیں
آنکھیں یوں تری دید سے سرسبز ہوئی ہیں
جیسے ترے صاحب ہیں ورا ہر لفظ و بیاں سے
— Hasaan Al Mustafa\
حریصؐ علینا، عزیز و پیمبر، سراجاً منیرا، سراجاًمنیرا
بقا کی نہ عمردوامی کی مانگی، دعا جب بھی مانگی غلامی کی مانگی
تو جس کے تصورمیں آباددنیا، تو جس کی غلامی میں آزاد دنیا
رسول شفاعت تو یٰسین و طہٰ تجھےٹوٹکرتیرے رب نے بھی چاہا
کرم ہی کرم تو، سخا تو ہے امت کے حق میں دعا ہی دعا تو
مجھے بھی اجازت ملےیامحمد، کلی دل کی اب تو کھلے یا محمد
ریاض آج بھی دیکھنا رو رہاہے سررہگزرشام سے سورہا ہے
— Riaz Hussain Chaudhary\