تیری اک چشمِ رحمت سے تیرا بیمار بہتر ہے
شہنشاہی سے بڑھ کر ہے تیری پاپوش برداری
جگہ مل جائے گر پاپوش گاہ یار میں مجھ کو
مقام و مرتبہ ساری خدائی میں میرے آقا
میرے آقا کی سے خوشبو خلد کی یوں عرض کرتی ہے
— Unknown
تیری اک چشمِ رحمت سے تیرا بیمار بہتر ہے
شہنشاہی سے بڑھ کر ہے تیری پاپوش برداری
جگہ مل جائے گر پاپوش گاہ یار میں مجھ کو
مقام و مرتبہ ساری خدائی میں میرے آقا
میرے آقا کی سے خوشبو خلد کی یوں عرض کرتی ہے
— Unknown
تعبیرِ شبِ غیب شبستانِ محمدؐ
ہے کوئی جو دیکھے رخِ تابانِ محمدؐ
یہ مشک فشاں، پیکرِ جاں خلد بداماں
ہر آن نئ شان میں اللہ نمایاں
یہ وسعتِ کونین مری طرح ذہینؔ آج
— Baba Zaheen Shah Taji\
سانوں سد لو مدینے سرکار ﷺ اکھیاں ترس گئیاں
ساری ساری رات مینوں نیندراں نئیں آوندیاں
میرے سوہنے دیاں اُچیاں شاناں
جی کردا اے مدینے نوں جاواں
سوہنے دی زلف وانگوں اکھیاں نوں رنگاں
دل کملا جھلا ضد کردا
ساڈے تے آقا ﷺ کرم کماویں
سانوں سد لو مدینے سرکار ﷺ اکھیاں ترس گئیاں
— Unknown
نہیں ہے دعویٰ مجھے کوئی پارسائی کا
تمہارے چاہنے والوں میں کمتریں ہوں مگر
امیر سارے جہاں کے اسے سلام کریں
ترے کرم نے کیا سب سے بےنیاز مجھے
جہاں پہ اور دوا کوئی کارگر نہ ہوئی
ظہوری روز بالا کےمجھےوہ سنتےہیں
— Muhammad Ali Zahoori\
رحمت کی ہو جاۓ نجریا رحمتِ عالم ذات تری ہے
تیری عطا کا رنگ جدا ہے بابِ کرم ہر وقت کھلا ہے
ہر اک رنگ میں رنگ ترا ہےسب سے اچھا سنگ ترا ہے
نکھری نکھری صبح کرم ہے روشن روشن شامِ حرم ہے
یہ میرے مرشد کی عطا ہےورنہ میری اوقات ہی کیا ہے
صدقہ دے اولادِ علی کا میں بھی گدا ہوں تیری گلی کا
اپنے اویس و بلال کا صدقہ اپنی پیاری آل کا صدقہ
حسنِ عمل کچھ پاس نہیں ہے شرمندہ سجدوں سے جبیں ہے
دن دیکھے ہیں تونے خوشی کے گارے نیازیؔ گیت نبی کے
— Unknown
مدینےدل و روح و جاں لےے کے جاؤں
جو سرگرم رہتی ہے ان کی ثنا میں
بھلا دوں جو کاذب ہے روداد میری
"محمدؐ محمدؐ "ہو، ہونٹوں پہ میرے
نہ چھوٹے کبھی یہ دیارِ مدینہ
جو تڑپا رہا ہے مری زندگی کو
نہیں لائق نذر بہزادؔ کچھ بھی
— Behzad Lucknavi\
یاد وچ روندیاں نیں اکھیاں نمانیاں
ساری کائنات دا خزینہ مل گیا اے
در دے منگتیاں نوں خیر جھولی پاؤ نا
سارے جگ نالوں اوہ فضاواں نیں نِرالیاں
ساڈا تے ظہوریؔ ایہو دین تے ایمان اے
— Muhammad Ali Zahoori\
یا محمد ﷺ یا محمد ﷺ جو بھی بولے گا
نامِ نبی کی برکت سے جھولی بھر جاتی ہے
نامِ نبی کی خاطر جس نے جان لٹائی ہے
چاند کیا دو ٹکڑے پل میں ایک اشارے سے
لب پہ درودِ پاک سجا ہو اور میں سو جاؤں
جام کرم کے پی لے گا وہ ساقیء کوثر سے
جائیں مدینے مل کر ہم مہرانؔ تمنا ہے
— Unknown
نوری مکھڑا نالے زلفاں کالیاں
چن چڑھیا آمنہ دے لال دا
تیرےویہڑےکھیڈےرب دا لاڈلا
ویکھ کے رتبہ بلال حبشی دا
لکھاں اوہدے درداپانی بھردیاں
سوں گئی امت تے آقاﷺ جاگدے
بے کساں مظلوماں دکھیاراں دیاں
میرا منہ آ کے فرشتےچم دے
عشق دے جھلےای نمبر لےگۓ
اجڑیاں راہواں توں سوہنا گزریا
میں ظہوری صدقے اوہدے نام توں
— Muhammad Ali Zahoori\
پھر اہلِ حرم سے ملاقات ہوتی
دم دید پھر جلوۃ نو بہ نو سے
مدینے کی پُرنور دلکش فضا میں
اُدھر جلوہ گر قبہء نور ہوتا
مدینہ کے احباب ہمراہ ہوتے
نظر مستِ صہباۓ دیدار رہتی
خیر کچھ نہ رہتی زمین و زماں کی
پہنچ جائیں پائینِ اقدس کی جانب
تصور میں وہ مصحفِ پاک ہوتا
دعاؤں میں جامیؔ کے اشعار پڑھتے
— Hamid Siddiqui Lucknavi\