نظروں میں بسی ہے کسی مہتاب کی صورت
اک شمع کی مانند ہیں ہم تیز ہوا میں
وحشت کے سوا کیا تھا سروں میں کہ وہ آیا
پتھر تھا یہ دل موم ہوا انؐ کی نظر سے
شاہا ترےؐ قدموں کی مجھے دھول عطا ہو
— Ahmed Sagheer Siddique\
نظروں میں بسی ہے کسی مہتاب کی صورت
اک شمع کی مانند ہیں ہم تیز ہوا میں
وحشت کے سوا کیا تھا سروں میں کہ وہ آیا
پتھر تھا یہ دل موم ہوا انؐ کی نظر سے
شاہا ترےؐ قدموں کی مجھے دھول عطا ہو
— Ahmed Sagheer Siddique\
یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
سننے کی جو قوت مجھے بخشی ہے خداوند!
حوروں کی غلماں کی نہ جنت کی طلب ہے
مدّت سےمیں ان ہاتھوں سےکرتاہوں دعائیں
منہ حشر میں مجھ کو نہ چھپانا پڑےیارب!
عشرؔت کو بھی اب خوشبوۓحسّان عطا کر
— Unknown
آنکھیں حضورؐ سے میں ملاؤں گا کس طرح
فردِ عمل پڑھیں گے فرزتے تو اس گھڑی
ہر امتی کے واسطے بے چین ہوں گے آپؐ
قدموں میں آپؐ کے مری مٹی عزیز ہو
محفل میں ہوں گے سعدیؔ و حسانؔ و بن زبیرؔ
— Murtaza Barlas\
زباں محو ثناء ہے گنبدِ خضریٰ کے ساۓ میں
درِ بخشش کھلا ہے گنبدِ خضریٰ کے ساۓ میں
سرِ محشر بھی میزان کرم پر تولا جاۓ گا
کلامِ پاک دیتا ہے گواہی اس حقیقت کی
کبھی خود کو کبھی ان کے کرم کو دیکھتا ہوں میں
طلب کرنے سے پہلے گوہرِ مقصود ملتا ہے
شفاعت کی سند پا کر اٹھا شانِ کریمی سے
اگر سینے میں ہوتا تو دھڑکنے کی صدا آتی
اسے کیا گرمیء خورشید محشر خاک یاد آۓ
وہیں لے جائیں میرے چارہ گر احسان فرمائیں
جسے خلدِ بریں سے اہلِ دل تعبیر کرتے ہیں
سمجھتا ہے خموشی کی زباں ان کا کرم خالدؔ
— Khalid Mehmood Khalid\
میری بات بن گئی ہے تیری بات کرتے کرتے
تیرے عشق کی بدولت مجھے زندگی ملی ہے
کسی چیز کی طلب ہے نہ ہے آرزو ہی کوئی
ہے جو باقی زندگانی یہ ارادہ کر لیا ہے
میرے سونے سونے گھر کو کبھی رونقیں عطا ہوں
ناصؔر کی حاضری ہو کبھی تیرے آستاں پر
— Syed Nasir Hussain Chishti\
آئینہ ُمنفعل ترے جلوے کے سامنے
جاری ہے حکم یہ کہ دو پارہ قمر ہوا
کیوں دَر بدر فقیر تمہارا کرے سوال
یہ وہ کریم ہیں کہ جو مانگو وہی ملے
منگتا کی عرض شاہِ مَدینہ قبول ہو
ربِّ کریم ہے یہ دُعا میری روزِ حشر
وزنِ عمل کا خوف ہو کیوں مجھ اَثیم کو
جنت تو کھینچتی ہے کہ میری طرف چلو
شاہ و گدا فقیر سلاطین رُوزگار
آنکھیں ہوں بند لب پہ دُعا دِل میں ہو دُرُود
اس طرح موت آئے تو ہو زندگی مری
کیا لطف ہو جو خاکِ مَدینہ پہ میں مروں
توقیر ان کے گھر کی ہے منظور اس قدر
اَہل نظر نے غور سے دیکھا تو یہ ُکھلا
وہ دن جمیلِؔ قادری رضوی کو ہو نصیب
— Jamil Ur Rehman Qadri\
یہ اہتمام اندھیروں کے رد میں رکھا گیا
مجال ہے کہ ہوئی ہو کہیں کمی بیشی
کہا گیا کہ پکارو تو کہہ کے "انظرنا"
وہ جس نے آدم و حوا کو بنتے دیکھا تھا
کچھ اور سہل ہوئیں اگلی منزلیں مجھ پر
مجھے سنائی گئی یوں شفاعتوں کی نوید
یہ پانچ اسم بنے مدعاۓ بسم اللہ
— Akhtar Usmani\
گناہوں کی عادت چھڑا میرے مولا
میری سابقہ ہر خطا میرے مولا
تو قدرت سے اپنی بدل نیکوں سے
جو تجھ کوجوتیرےنبیﷺکوپسند ہو
تجھےواسطہ تیری رحمت کایاربّ
میری تاقیامت جونسلیں ہوں یارب
ہےاُدعُونِی فرمانِ قرآن تیرا
مجھےبھی دکھادےتوجلوہ نبیﷺکا
جنہوں نےکہا ہےدعاؤں کا مجھ سے
رُلا تو مجھے بس غمِ مصطفیٰ میں
نہ محتاج کرتو جہاں میں کسی کا
عبیدِ رضا دیکھےنظروں سے کعبہ
— Unknown
نور ہی نور کی برسات ہوئی جاتی ہے
میں ترے ذکر کی محفل میں چلا آیا ہوں
آج بھی ورطۃ حیرت میں پڑی ہے دنیا
صورت ابر میرے سر پہ رہا سایہ فگن
شکر اللہ کا منظرؔ ہے کرم مولا کا
— Manzar Naqvi\
دلوں کو جگمگانے کو نبی کا نام کافی ہے
سر محشر گنہگاروں کے لب پہ تھی صدا یہ ہی
تیرے جو ڈھیرہے سرپر گناہوں کا تو مت گھبرا
جو سینے میں اندھیرا ہے پریشاں مت نہ ہو یارا
جو بیڑا گھیرا طوفاں نے پریشاں تو ذرا نہ ہو
جو مشکل پاس آ جاۓ تو گھبرا نہ ذرا ثاقبؔ
— Unknown